صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 562 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 562

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۶۲ ۸۵ - كتاب الفرائض خواہ کسی بھی خاوند سے ہو ، موجودہ خاوند کو ۴ / ۱ حصہ ہی ملے گا۔ اسی طرح کسی خاتون کے وہی بچے میراث سے حصہ لے سکیں گے جو کہ اس کے اپنے بطن سے ہوں۔ سوتیلے بچے اور بچیاں اس کے ترکہ سے حصہ نہ پاسکیں گے۔ بَاب ۱۱ : مِيرَاتُ الْمَرْأَةِ وَالزَّوْجِ مَعَ الْوَلَدِ وَغَيْرِهِ اولاد وغیرہ کے ساتھ عورت اور خاوند کا حق وراثت ٦٧٤٠ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ :۶۷۴۰ : قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ لیٹ نے ہمیں عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللهِ ابن مسیب سے ، ابن مسیب نے حضرت ابوہریرہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ مِنْ بَنِي لَحْيَانَ سَقَطَ مَيْتًا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ علیہ وسلم نے بنو لحیان کی ایک عورت کے جنین کے متعلق جو مر ا ہو اگر اتھا بُردہ آزاد کرنے کا فیصلہ کیا، أَمَةٍ ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قَضَى لَهَا بِالْغُرَّةِ غلام ہو یا لونڈی۔ پھر وہ عورت جس کو بردہ آزاد تُوُفِّيَتْ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ کرنے کا حکم دیا تھا فوت ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَزَوْجِهَا عليہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کی وراثت اس کے بیٹوں وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا۔ اور اس کے خاوند کو دی جائے اور دیت کا ادا کرنا اس کے خاندان کے لوگوں کے ذمہ ہو گا۔ أطرافه: ٥٧٥٨، 5759، 5760، 6904، 6909، 6910۔ تشريح : مِيرَاثُ الْمَرْأَةِ وَالزَّوْجِ مَعَ الْوَلَدِ وَغَيْرِ اولاد وغیرہ کے ساتھ عورت اور خاوند کا حق وراثت۔ خاوند کی طرح بیوی بھی اپنے خاوند کے ترکہ سے کبھی محروم نہیں ہوتی البتہ اس کا حصہ حالات کے مطابق کم یا زیادہ ہو جاتا ہے اور اس کی بھی صرف دو صورتیں ہیں۔ الف: اگر خاوند کی اولاد ہو (خواہ کسی بھی بیوی کے بطن سے ہو) تو موجودہ بیوی کو یا موجودہ تمام بیویوں کو ترکہ کا ۱/۸ حصہ ملے گا۔ ب: اگر اولاد (کسی بیوی سے بھی) نہ ہو تو پھر انہیں ترکہ کا ۴ / ا حصہ ملے گا۔ بیوی کو حصہ دیتے وقت صرف یہ دیکھنا ہو گا کہ خاوند کی اولاد ہے یا نہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ اولاد موجودہ بیوی سے ہی ہو ، وہ کسی بھی بیوی کے بطن سے ہو سکتی ہے خواہ وہ بیوی زندہ ہو یا نہ ہو۔ اس لیے جب بھی کوئی اولاد ہو تو زوجہ کو ۱/۸ حصہ ملے گا اور اگر کوئی اولاد نہیں تو اس صورت میں بیوی یا بیویوں کو ۴ / ۱ حصہ ملے گا جس میں یہ سب برابر کی شریک ہوں گی۔ مثلاً اگر ایک میت تین لڑکے اور دو لڑکیاں جو اس کی پہلی فوت شدہ بیوی کے بطن سے ہیں چھوڑے اور موجودہ بیوی سے کوئی اولاد نہ ہو تو اس صورت میں موجود بیوی کو خاوند سے جائیداد کا ۸ / ا حصہ ہی ملے گا۔ را