صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 561
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۶۱ باب ۱۰ : مِيرَاثُ الزَّوْجِ مَعَ الْوَلَدِ وَغَيْرِهِ اولا د و غیرہ کے ساتھ خاوند کا حق وراثت ۸۵ - کتاب الفرائض ٦٧٣٩: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۲۷۳۹ محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے بیان عَنْ وَرْقَاءَ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ کیا۔انہوں نے ورقاء (بشکری) سے، ورقاء نے عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ابن ابی صحیح سے، ابن ابی نجیح نے عطاء سے، عطاء قَالَ كَانَ الْمَالُ لِلْوَلَدِ وَكَانَتِ الْوَصِيَّةُ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت لِلْوَالِدَيْنِ فَنَسَخَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ مَا أَحَبَّ کی۔انہوں نے کہا: مال اولا د کا ہی ہوا کر تا تھا اور فَجَعَلَ لِلذَّكَرِ مِثْلَ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ وَجَعَلَ ماں باپ کو وصیت کے مطابق ملتا۔اس لئے اللہ نے اس رواج سے جو پسند کیا منسوخ کیا اور مرد کا لِلْأَبَوَيْنِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر رکھا اور ماں وَجَعَلَ لِلْمَرْأَةِ الدُّمُنَ وَالرُّبعَ وَلِلزَّوْجِ باپ میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ مقرر کیا الشَّطْرَ وَالرُّبعَ۔أطرافه: ٢٧٤٧ ، ٤٥٧٨ - اور عورت کے لئے آٹھواں یا چوتھا حصہ اور خاوند کے لئے آدھایا چوتھا حصہ قرار دیا۔يح۔مِيرَاتُ الزَّوْجِ مَعَ الْوَلَدِ وَغَيْرِهِ: اولاد وغیرہ کے ساتھ خاوند کاحق وراثت۔قرآن کریم میاں بیوی کے حق وراثت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكنَ (النساء : ۱۳) اور تمہاری بیویاں جو کچھ چھوڑ جائیں اگر ان کے اولاد نہ ہو تو ان (کے ترکہ) کا آدھا (حصہ) تمہارا ہے اور اگر ان کی اولاد (موجود) ہو تو جو کچھ انہوں نے چھوڑا ہو اس کا چوتھا ( حصہ) تمہارا ہے۔وہ عورت اور مرد جن کی اولاد ہو چاہے وہ اولاد کسی خاوند یا کسی بیوی سے ہو ، اولاد کی موجودگی میں ان کے حق وراثت کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُن لَكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ (النساء:۱۳) اور اگر تمہارے ہاں اولاد نہ ہو تو جو کچھ تم چھوڑ جاؤ اس میں سے چو تھا (حصہ) ان (بیویوں) کا ہے اور اگر تمہارے ہاں اولاد ہو تو جو کچھ تم چھوڑ جاؤ اس میں سے آٹھواں (حصہ) ان کا ہے۔شوہر بھی اپنی بیوی کے ترکہ سے کبھی محروم نہیں ہوتا۔اس کے حصہ کی صرف دو صورتیں ہیں۔الف: اگر بیوی کی اولاد نہیں تو شوہر کو بیوی کے ترکہ کا ۲/ ا حصہ ملے گا۔ب: اگر بیوی کے بطن سے اولاد ہو تو شوہر کو ترکہ کا ۱/۴ حصہ ملے گا۔اولا د موجود ہونے کی صورت میں موجودہ خاوند کو ۱/۴ حصہ ملے گا۔یہ اولاد ( بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی وغیرہ)