صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 557 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 557

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۵۷ ۸۵- کتاب الفرائض آدم کی اولاد ہیں تو ہم کو چاہیئے کہ سب کی سلطنتوں سے حصہ بٹانے کی درخواست کریں۔چونکہ بیٹے کی نسبت سے آگے پوتے میں جا کر کمزوری ہو جاتی ہے اور آخر ایک حد پر آکر تو برائے نام رہ جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کو یہ علم تھا کہ اس طرح کمزوری نسل میں اور ناطہ میں ہو جاتی ہے اس لئے یہ قانون رکھا ہے۔ہاں ایسے سلوک اور رحم کی خاطر خدا تعالیٰ نے ایک اور قانون رکھا ہے جیسے قرآن شریف میں ہے: وَاذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُوا الْقُربى واليتى وَالْمَسْكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا معْرُوفًات ( النساء: 9) ( یعنی جب ایسی تقسیم کے وقت بعض خویش و اقارب موجود ہوں اور یتیم اور مساکین تو انکو کچھ دیا کرو) تو وہ پوتا جس کا باپ مر گیا ہے وہ یتیم ہونے کے لحاظ سے زیادہ مستحق اس رحم کا ہے، اور یتیم میں اور لوگ بھی شامل ہیں (جن کا کوئی حصہ مقرر نہیں کیا گیا ) خدا تعالیٰ نے کسی کا حق ضائع نہیں کیا مگر جیسے جیسے رشتہ میں کمزوری بڑھتی جاتی ہے حق کم ہوتا جاتا ہے۔“ (ملفوظات جلد ۲، صفحہ ۵۹۶،۵۹۵) باب ۸: مِيرَاثُ ابْنَةُ الابْنِ مَعَ ابْنَة بیٹی کے ساتھ پوتی کا حق وراثت ٦٧٣٦: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۶۷۳۶: آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا أَبُو قَيْسٍ سَمِعْتُ هُزَيْلَ بْنَ کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ابوقیس (عبد الرحمن بن شُرَحْبِيلَ قَالَ سُئِلَ أَبُو مُوسَى عَنِ ثروان) نے ہم سے بیان کیا کہ میں نے ہنریل بن ابْنَةٍ وَابْنَةِ ابْنِ وَأُخْتِ فَقَالَ لِلْابْنَةِ شرجیل سے سنا۔انہوں نے کہا: حضرت ابو موسیٰ النِّصْفُ وَلِلْأُخْتِ النِصْفُ وَأتِ ابْنَ سے ایک بیٹی اور ایک پوتی اور ایک بہن کے متعلق مَسْعُودٍ فَسَيُتَابِعُنِي فَسُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ (وراثت کا مسئلہ) پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: بیٹی کو وَأُخْبِرَ بِقَوْلِ أَبِى مُوسَى فَقَالَ لَقَدْ آدھا اور بہن کو آدھا ملے گا اور حضرت ابن مسعود ضَلَلْتُ إِذًا وَّمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ کے پاس جاؤ، وہ بھی میری طرح ہی بتائیں گے۔أَقْضِي فِيهَا بِمَا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ چنانچہ حضرت ابن مسعودؓ سے پوچھا گیا اور انہیں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْابْنَةِ النِّصْفُ وَلابْنَةِ حضرت ابو موسیٰ کا فتویٰ بتایا گیا تو انہوں نے کہا: