صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 555
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۵۵ ۸۵- کتاب الفرائض کرے گی جسے اسلام پسند نہیں کرتا تو وہ اکیلی جان ہو گی مگر مرد اگر نکاح کرے گا اور اس کا اسلام اسے حکم دیتا ہے تو اسے اپنی بیوی اور بچوں کا خرچ برداشت کرنا ہو گا۔پس مرد کا عورت سے دُگنا حصہ مرد کی رعایت کے طور پر یا عورتوں کی بنک کے طور پر نہیں ہے بلکہ واقعات کو مد نظر رکھ کر یہ حکم دیا گیا ہے اور عورتوں کو اس میں ہرگز نقصان نہیں بلکہ وہ شاید پھر بھی فائدہ میں رہتی ہیں۔66 احمدیت یعنی حقیقی اسلام، انوار العلوم جلد ۸، صفحہ ۲۷۸،۲۷۷) حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ سے لڑکیوں کو ورثہ دینے کے بارہ میں سوال کیا گیا کہ کیا ان کو جائیداد کی بجائے زیور کی صورت میں حصہ دیا جاسکتا ہے؟ فرمایا: چونکہ قانون انگریزی لڑکیوں کو حصہ نہیں دلاتا اس لئے جب تک یا تو لڑکیوں کو حصہ دینے کا قانون نہ بن جائے یا احمدیت کی حکومت نہ قائم ہو جائے جہاں یہ خطرہ ہو کہ باپ کے مرنے کے بعد لڑ کے جائیداد میں سے بہنوں کو حصہ نہ دیں گے وہاں با قاعدہ حساب کر کے جتنا حصہ بنے اتنے کا زیور دے دیا جائے تو کوئی بُری بات نہیں بلکہ اچھی بات ہے۔“ ( مجلس عرفان سے مئی ۱۹۴۵، مطبوعه روزنامه الفضل ۹ مئی ۱۹۴۵ء ، صفحه ۲) بَاب : مِيرَاثُ ابْنِ الِابْنِ إِذَا لَمْ يَكُنْ ابْنُ پوتے کا حق وراثت جب بیٹا نہ ہو وَقَالَ زَيْدٌ وَلَدُ الْأَبْنَاءِ بِمَنْزِلَةِ الْوَلَدِ إِذَا اور حضرت زید نے کہا: بیٹوں کی اولاد بمنزلہ اپنی لَمْ يَكُنْ دُونَهُمْ وَلَدْ ذَكَرْ ذَكَرُهُمْ اولاد کے ہے جب اُن کے سوا اولاد نہ ہو۔بیٹوں كَذَكَرِهِمْ وَأَنْتَاهُمْ كَأَنْتَاهُمْ يَرِثُونَ کے بیٹے اپنے بیٹوں کی طرح ہیں اور بیٹیوں کی بیٹیاں كَمَا يَرِثُونَ وَيَحْجُبُونَ كَمَا يَحْجُبُونَ اپنی بیٹیوں کی طرح ہیں، وہ اسی طرح وارث ہوتے ہیں جیسے اپنی اولا د وارث ہوتی ہے اور اُسی طرح دوسرے وارثوں کو محروم کرتے ہیں جیسے اپنے بیٹے محروم کرتے ہیں اور بیٹے کی اولاد بیٹے کے ساتھ وَلَا يَرِثُ وَلَدُ الِابْنِ مَعَ الِابْنِ۔وارث نہیں ہوتی۔:٦٧٣٥ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۶۷۳۵: مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ