صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 554
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۵۴ ۸۵- کتاب الفرائض النِّصْفَ وَالْأُخْتَ النَّصْفَ۔جو فوت ہو گیا اور اپنی بیٹی اور بہن چھوڑ گیا۔تو انہوں ( حضرت معاذ بن جبل نے بیٹی کو آدھا اور بہن طرفه: ٦٧٤١ - کو بھی آدھا دیا۔تشریح۔مِیرَاتُ الْبَنَاتِ: بیٹیوں کا حق دراشت۔اگر میت کی اولاد صرف ایک بیٹی ہو تو وہ ترکہ کا نصف (۱/۲) حاصل کرتی ہے اور اگر میت کا اس کے سوا اور کسی قسم کا کوئی وارث نہ ہو تو یہ سارا ترکہ حاصل کر لیتی ہے اور اگر اس بیٹی کے ساتھ متوفی کی بہن بھی ہو تو بقیہ نصف اس بہن کو ملے گا جیسا کہ زیر باب روایت میں حضرت معاذ بن جبل کے فیصلہ کا ذکر ہے۔اگر میت کی بیٹیاں ہی بیٹیاں ہوں جو دو یا دو سے زائد ہوں تو پھر یہ ترکہ کا ۲/۳ حصہ (دو ثلث) حاصل کرتی ہیں اور اگر ان بیٹیوں کے ساتھ متوفی کا کسی قسم کا کوئی وارث نہ ہو تو یہ کل ترکہ کی وارث ہوں گی جو ان میں باہم برابر تقسیم ہو گا اور اگر ان بیٹیوں کے ساتھ متوفی کی بہن بھی ہو تو بقیہ ایک تہائی اس بہن کو ملے گا جیسا کہ زیر باب روایت میں ایک بیٹی کے ساتھ بہن بھی شریک ترکہ بنائی گئی ہے۔اگر میت کا بیٹا بھی ان کے ساتھ موجود ہو تو اگر والدین نہ ہوں تو کل ترکہ ان بھائی بہنوں میں لِلذَّكَرِ مِثْلُ حظ الأُنثَيَيْنِ (النساء:۱۲) (ایک) مرد کا (حصہ) دو عورتوں کے حصہ کے برابر ہے، کے مطابق تقسیم ہو گا۔ترکہ کی ہر تقسیم میں قرض اور وصیت کی ادائیگی پہلے ہوگی اس کے بعد ورثاء میں ترکہ تقسیم ہو گا۔جیسا کہ قرآنِ کریم نے تقسیم ورثہ میں اس اصول کو ایک سے زائد دفعہ بیان فرمایا: مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُؤْمِنِى بِهَا أَوْ دَيْنٍ (النساء:۱۲) (يه سب حصے ) اس کی وصیت اور (اس کے ) قرض کی ادائیگی) کے بعد (ادا ہوں گے۔) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عورت کا حصہ مرد سے اکثر حالتوں میں نصف رکھا ہے۔جن میں برابر رکھا ہے وہاں خاص حکمتوں کے ماتحت کیا گیا ہے۔بعض لوگ اس فرق میں بے انصافی دیکھتے ہیں حالانکہ عورتوں کے حقوق اب تک بھی محفوظ نہیں ہیں۔صرف اسلام ہی ہے جس نے عورتوں کو پورے حق دلائے ہیں۔اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ اسلام نے ماں پر خرچ کی کوئی ذمہ داری نہیں رکھی، تمام اخراجات مرد پر رکھتے ہیں۔اس وجہ سے مرد کی مالی ذمہ داری بہ نسبت عورت کے بہت زیادہ ہوتی ہے۔پس وہ زیادہ حصہ کا مستحق تھا۔بچوں کی پرورش بیوی کی پرورش مرد کے ذمہ ہے۔عورت اگر نکاح کرے گی تو اس کا اور اس کی اولاد کا خرچ اس کے خاوند کے ذمہ ہو گا۔اگر نہ