صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 539
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۳۹ ۸۵- کتاب الفرائض مَا لَهُم بِذلِكَ مِنْ عِلْمٍ (الزخرف: (٢١) إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ (یونس : ۶۷)۔“ ( الحق مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۹۴) نیز فرمایا: ظاہر ہے کہ ظن کوئی چیز نہیں ہے اور جو شخص محض ظن کو پنجہ مارتا ہے وہ مقام بلند حق سے بہت نیچے گر ا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ الظَّنِّ لَا يُغْنِى مِنَ الْحَقِّ شيئًا۔یعنی محض ظن حق الیقین کے مقابلہ پر کچھ چیز نہیں۔“ ریویو مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه (۲۰۸) بَاب۳ : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: ہمارا کوئی وارث نہیں ہو تا ، جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے ٦٧٢٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۶۷۲۵: عبد اللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِي هشام بن يوسف یمانی) نے ہمیں بتایا۔معمر نے عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ ہمیں خبر دی۔معمر نے زہری سے ، زہری نے عروہ وَالْعَبَّاسَ عَلَيْهِمَا السَّلَامِ أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ سے، عروہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ يَلْتَمِسَانِ مِيرَانَهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ حضرت فاطمہ اور حضرت عباس علیہا السلام حضرت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا حِينَئِذٍ ابو بکر کے پاس آئے کہ اپنی وہ میراث مانگیں جو يَطْلُبَانِ أَرْضَيْهِمَا مِنْ فَدَكَ وَسَهْمَهُمَا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کو پہنچتی تھی اور مِنْ خَيْبَرَ۔أطرافه: ۳۰۹۲، ۳۷۱۱، ٤٠٣٥، ٤٢٤٠۔وہ اس وقت فدک کی اپنی زمینیں اور خیبر سے اپنا حصہ مانگتے تھے۔٦٧٢٦: فَقَالَ لَهُمَا أَبُو بَكْرٍ سَمِعْتُ ۶۷۲۶: حضرت ابو بکر نے اُن کو جواب دیا: میں رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْكُلُ تھے : ہمارا کوئی ورثہ نہیں پائے گا۔جو ہم چھوڑ جائیں آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ قَالَ أَبُو بَكْرٍ وہ صدقہ ہو گا۔آل محمد اس مال سے صرف کھاتے وَاللَّهِ لَا أَدَعُ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ پیتے رہے ہیں، حضرت ابو بکر نے کہا: اللہ کی قسم ! میں