صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 538 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 538

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۳۸ ۸۵- کتاب الفرائض فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا کہا: رسول اللہ صلی ایم نے فرمایا: دیکھو گمان سے اپنے تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَبَاغَضُوا آپ کو بچاتے رہنا کیونکہ گمان نہایت ہی جھوٹی بات وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا ہے اور ٹوہ نہ لگاتے رہو اور نہ جاسوسی کرو اور نہ آپس میں بغض رکھو اور نہ ہی ایک دوسرے سے أطرافه: ٥١٤٣، ٦٠٦٤، ٦٠٦٦ - پیٹھ موڑو اور بھائی بھائی ہو کر اللہ کے بندے بنو۔تشریح : تَعْلِيمُ الْفَرَائِضِ: فرائض کا سکھانا۔امام بخاری اپنے انداز اور ترتیب ابواب واحادیث سے مضامین بیان کرتے ہیں۔باب نمبر ا میں احکام وراثت کا قرآنِ کریم کی آیات کی روشنی میں بیان کیا اور باب نمبر ۲ میں اس بنیادی بات کو اُجاگر کیا کہ احکام وراثت کو سیکھنا، سمجھنا اور سکھانا نہایت ضروری ہے کیونکہ یہ وہ علم ہے جس کا اثر افراد تک ہی نہیں، خاندانوں اور آئندہ آنے والی نسلوں تک چلتا ہے اور تقسیم ورثہ کے معاملات اتنے باریک پیچیدہ اور اہم ہیں کہ ان کو ظن اور قیاس سے حل نہیں کیا جاسکتا بلکہ علم ریاضی کا یہ وہ حصہ ہے جو بڑی باریک بینی سے دیکھنے کے لائق ہے اور اس میں تقویٰ کا وہ معیار ضروری ہے جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے : و اتَّقُوا اللهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ (البقرة: ۲۸۳) اور چاہیئے کہ تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو (اور اگر تم ایسا کروگے تو) اللہ تمہیں علم دے گا۔تقویٰ کے نتیجہ میں حاصل ہونے والا علم بدظنی، تجسس، بغض و عناد، بے وفائی جیسے مذموم عوامل سے بچاتا ہے۔در حقیقت جائیداد کی تقسیم اور حصص کے مطابق حق دار تک حق پہنچانا بہت بڑے اخلاص، ایمان، بے نفسی، اور للہی جذبہ سے سرشار ایک متقی انسان ہی کر سکتا ہے۔یہ تقویٰ جہاں نہیں ہوتا وہاں سگے اور بہت پیارے رشتوں کے خون سفید ہوتے اور باہمی محبت و اخوت، دشمنی اور بغض و عناد میں بدلتی دیکھی گئی ہے۔علیم فرائض کے سیکھنے کے حوالے سے امام بخاری نے اپنی شرائط کے مطابق احادیث نہ ہونے کی وجہ سے وہ روایات قبول نہیں کہیں جو دیگر کتب احادیث میں ملتی ہیں۔جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ سے مروی ترمذی کی حدیث نمبر ۲۰۹۱ ہے : تَعَلَّمُوا القُرْآنِ وَالفَرَائِضَ وَعَلِمُوا النَّاسَ فَإِنِّي مَقْبُوض یعنی قرآن اور فرائض کو سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ کیونکہ میں تو فوت ہو جانے والا ہوں۔ابن ماجہ کی روایت نمبر ۲۷۱۹ کے الفاظ ہیں: يَا أَبَا هُرَيْرَةً تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوهَا فَإِنَّهُ نِصْفُ الْعِلْمِ " ابو ہریرہ !افرائض (خود بھی) سیکھو اور دوسروں کو بھی) سکھاؤ۔یقینا یہ آدھا علم ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: قرآن کریم کی محکمات اور بینات علم ہے اور مخالف قرآن کے جو کچھ ہے وہ ظن ہے اور جو شخص علم ہوتے ہوئے ظن کا اتباع کرے وہ اس آیت کے نیچے داخل ہے: (سنن الترمذی، ابواب الفرائض، باب مَا جَاءَ فِي تَعْلِيمِ الفَرَائِضِ ) (سنن ابن ماجه، کتاب الفرائض، باب الْحَيقِ عَلَى تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ )