صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 57
صحیح البخاری جلد ۵۷ ۶۵ - كتاب التفسير / الحج قَالَ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: وَ مِنَ النَّاسِ حرف (الحج : ١٢) قَالَ كَانَ الرَّجُلُ مَنْ يَعْبُدُ اللهَ عَلَى حَرْفٍ سے سے یہ مراد ہے کہ کوئی يَقْدَمُ الْمَدِينَةَ فَإِنْ وَلَدَتِ امْرَأَتُهُ شخص مدینہ میں آتا اور اگر اس کی بیوی لڑکا جنتی غُلَامًا وَنُتِجَتْ خَيْلُهُ قَالَ هَذَا دِین اور اس کی گھوڑی بچہ دیتی تب وہ کہتا یہ دین بہت صَالِحٌ وَإِنْ لَمْ تَلِدِ امْرَأَتُهُ وَلَمْ تُنْتَج اچھا ہے، اور اگر اس کی بیوی بچہ نہ جنتی اور نہ خَيْلُهُ قَالَ هَذَا دِينُ سُوءٍ۔ گھوڑی بچھیرا جنتی تو کہتا یہ برا دین ہے۔ عَلیٰ حَرْفٍ بمعنی شک ہے۔ یہ مجاہد ہے۔ یہ مجاہد کی تفسیر ہے جو ابن ابی حاتم سے منقول ہے اور ابو عبیدہ نے تشریح کہا کسی چیز میں ٹیک کرنے والا ایک کنارے پر ہوتا ہے ثابت قدم نہیں رہتا ہ اسے دوام کا نہ اسے دوام حاصل ہوتا ہے۔ جس آیت میں یہ لفظ آیا ہے اس کا سیاق ہی بتاتا ہے کہ اس کے معنی تردد اور شک کے ہیں۔ فرماتا ہے : وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللهَ عَلَى حَرْفٍ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ إِطْمَانَ بِهِ وَ إِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ إِنْقَلَبَ عَلَى وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ذَلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ (الحج: (۱۲) یعنی اور لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو اللہ کی عبادت شک کی حالت میں کرتے ہیں اگر اُنہیں کوئی فائدہ پہنچ گیا تو وہ اپنی عبادت پر مطمئن ہو گئے اور اگر کوئی تکلیف پہنچی تو وہ اپنے منہ کے بل پلٹ جاتے ہیں۔ دنیا اور آخرت میں گھاٹے میں رہے اور یہی کھلا کھلا گھاٹا ہے۔ دنیا دیر پارہنے والی نہیں جلدی ایسے لوگوں کو اپنے کیے کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ دنیا داروں کے ایمان کی یہی حالت ہوتی ہے جو زیر باب مثال سے بیان کی گئی ہے اور دجالی زمانے میں آج کل یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ عیسائیت میں شامل ہونے سے دنیا کا مال و متاع حاصل ہوتا ہے اس لئے اسے قبول کیا جاتا ہے۔ ہر زمانے میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں مگر آج کل ان کی کثرت ہے۔ سورۃ الحج کے سیاق کے تعلق ہی میں یہ آیت بر محل اور بامعنی ہے۔ اتُرَفْنَهُمْ : عنوان باب میں اَتْرَفْتهُمْ کا جو حوالہ منقول ہے اس کا تعلق اگلی سورۃ سے ہے۔ تَرَف کے معنی خوشحالی، آسودگی ہیں۔ فرماتا ہے : وَ كَذَّبُوا بِلِقَاءِ الْآخِرَةِ وَاتْرَفْتُهُمْ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيا (المومنون: ۳۴) یعنی اور اُنہوں نے بعد الموت خدا سے ملنے کا انکار کیا تھا اور ہم نے انہیں اس دنیا کی زندگی میں بہت وسعت دی تھی۔ بَاب : هُذَانِ خَصْمَنِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمُ (الحج : ٢٠) یہ دو جھگڑنے والے فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا ٤٧٤٣ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ۴۷۴۳: حجاج بن منہال نے ہمیں بتایا کہ ہشیم حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو هَاشِمٍ عَنْ نے ہم سے بیان کیا، (کہا) ابو ہاشم نے ہمیں بتایا،