زندہ درخت — Page 358
زنده درخت اور زبان بولنے اور دل سوچنے کے لئے عنایت فرمائے اور ہماری سکونت اور رہائش کے لئے زمین اور مکان اور رونق و زیبائش کے لئے ستارے اور آسمان اور آرائش و آسائش کے لئے طرح طرح کی چیزیں اور سامان بنائے اور فہمائش اور آزمائش کے لئے امتحان ٹھہرائے“ اُس کے بعد غیر مسلموں کے راج کی مشکلات اور انگریزوں کے راج کی آسانیاں بیان کی ہیں۔ایک عنوان ہے " پہلے زمانہ کے لوگوں کے پوشش و خورش‘اس کے تحت لباسوں کا تفصیلی ذکر ہے اور پرانے مشکل، مہنگے ، بھاری لباسوں کے مقابلے میں انگریزوں کے زمانے کی آسانیاں بیان کی ہیں اور پھر بات کا رُخ اس طرف موڑا ہے کہ جس طرح دُنیا ان سہولتوں اور عدل وانصاف سے ناواقف ہے اسی طرح حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کی صداقت سے غافل ہے۔پھر سوال جواب کی شکل میں صداقت مسیح موعود قرآن وحدیث سے ثابت کی ہے۔حرف آخر ہے: پس اگر تم کو قرآن کی آیت یا بزرگوں کی حکایت سے ہدایت نہیں ہوتی تو بھی شکایت چھوڑ کر نہایت نتیجہ کی طرف غور کرو میرا یہ کہنا کسی کی دل آزاری کے لئے نہیں بلکہ نہایت درددل سے نصیحت ہے کہ تم سانپ کے منہ میں انگشت یا تیز شمشیر پرشست یا شیر دلیر کے ساتھ درشت یا جلتی آگ میں چست ہو کر جست نہ کرو حلوہ اور کھیر ، ملاں اور فقیر، رانجھا اور ہیر: اس کتاب پر کاتب چودہری عبدالرحمن گجراتی 25 جون 1939ء تحریر ہے۔کتاب کا دلچسپ نام ہی لوگوں کو متوجہ کرتا ہے۔اس کتاب میں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسمعیل کا ذکر خیر ہے۔مجددین کی پوری فہرست ہے۔حضرت کرشن کی کہانی ہے۔ہیر رانجھا کا دلچسپ قصہ ہے اور پھر صداقت مسیح موعود کے نشانات ہیں۔سادہ پنجابی 358