زندہ درخت — Page 348
زنده درخت ۷- دعوت الی اللہ کا شوق اور فن شعر و شاعری : حضرت حکیم صاحب کو دعوت الی اللہ کا بے حد شوق تھا۔اس شوق کی خاطر وہ ازخود دیہاتوں کا دورہ کرتے اور لوگوں کو نیکی کی طرف بلاتے اور بُری باتوں سے روکتے۔اپنی خدا داد صلاحیت شعر و شاعری کو بھی دعوت الی اللہ کے لئے استعمال کرتے۔آپ کے منظوم پنجابی کلام کے رسالے دیہات کے علاقوں میں بہت مقبول تھے۔جلسہ سالانہ قادیان کے دنوں میں آپ مہمانوں کی قیام گاہوں میں جا کر اپنے پنجابی لحن میں تبلیغی اشعار پڑھتے۔حضرت مصلح موعود نے بھی اس امر کا ذکر فرمایا تھا کہ پہلے جلسہ کے پروگرام تو مختصر ہوتے تھے مگر ایسے لوگ قیام گاہوں میں جا جا کر بہت مفید کام کیا کرتے تھے۔احمد یہ چوک میں دعوت الی اللہ کے بعض عشاق حضرت حکیم صاحب کے اشعار گا گا کر سناتے اور اس طرح جلسے کے دنوں میں عشاق احمدیت کی تسکین و خوشی کا سامان بہم پہنچاتے۔آپ کے مجموعہ ہائے کلام کے نام ہیں :- 1- موتی بازار -2- سچا موتی 3- حلوے کی رکابی اور ملاں کی کامیابی 4- اخبار مهدی 5- خالص موتی 6 مروارید ناسفتہ یعنی ان ودھ موتی اور اس کا ضمیمہ -7 -8 شہادت حضرت امام حسین حلوہ اور کھیر ، ملاں اور فقیر ، رانجھا اور ہیر سب مجموعہ ہائے کلام 1921 ء تا 1924 ء امرتسر کے ریاض ہند پر لیس اور قادیان کے اللہ بخش سٹیم پریس سے باہتمام شیخ نور احمد اور چودھری اللہ بخش مینیجرو پرنٹر شائع 348