زندہ درخت

by Other Authors

Page 291 of 368

زندہ درخت — Page 291

سے نوٹ کے ساتھ شائع ہوا۔زنده درخت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا علمی کارنامہ۔جامعہ احمدیہ اس زمانہ میں موعود عالم حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے جب ماموریت کا دعویٰ دنیا کے سامنے پیش کیا تو خشک از علم ملا ؤں نے جو اپنے آپ کو عالم اجل خیال کرتے تھے۔منبروں پر کھڑے ہوکر ھل من مبارز کا نعرہ لگایا۔لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عربی اور اردو میں علمی کتب تصنیف کر کے مقابلہ پر بلایا کہ کوئی ہے کہ جو ان جیسی پر از معارف کتب لکھ سکے۔تو سب کی زبانوں پر سکتہ طاری ہو گیا۔قلم ٹوٹ گئے۔ہاتھوں میں جنبش نہ رہی۔بھلا اس مرد خدا کا جو علیم وخبیر کی درسگاہ کا متعلم ہو۔کون مقابلہ کر سکتا ہے بہت سے مخالفین احمدیت مولوی فاضل کی ڈگری پر نازاں ہو کر یہ کہا کرتے تھے۔کوئی ہے احمدی مولوی فاضل جو ہمارا مقابلہ کرے؟ لیکن آج خدا کے فضل سے سینکڑوں جامعہ احمدیہ کے فارغ التحصیل مولوی فاضل اکناف عالم میں چشمہ ہدایت سے سیراب ہو کر ( دین حق) کے علم کے نیچے خدا سے برگشتہ لوگوں کو محبت الہی کا جام پلا کر اکٹھا کر رہے ہیں اور روحانی قحط زدہ علاقوں کو غذائے طیبہ دے کرا بدی زندگی کا جام بخش رہے ہیں۔امسال جامعہ احمدیہ کی طرف سے چھبیس (۲۶) طالب علم امتحان مولوی فاضل میں شامل تھے۔اتنی تعداد میں سے صرف دو طالب علم فیل ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ چودہ پرائیویٹ طالب علم امتحان میں شریک ہوئے۔کیا یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فیضان علم نہیں ہے کہ حضور کی قائم کردہ دینی درسگاہ سے ہر سال اتنی تعداد میں مولوی فاضل کی ڈگری حاصل کرتے ہیں۔اے حق کے طالبو! ذرا تعصب کی پٹی آنکھوں سے اتار کر غور تو کرو۔کبھی وہ بھی زمانہ تھا 291