زندہ درخت — Page 288
زنده درخت بہت احساس تھا کہ اس کو اپنے باپ کی عدم موجودگی کا صدمہ ہوگا۔اس لئے آپ نے غیر معمولی طور پر ہمارا بہت خیال رکھا اور ہر ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش فرمائی۔اور خود تشریف لا کر دعا کروائی اور بعد میں بھی ہمیشہ ہر طرح خیال رکھا۔کچھ عرصہ بعد میری صحت کمزور ہوگئی تو آپ نے فرمایا کہ تم بہت کمزور ہوگئی ہو میں نے عرض کی کہ سسرال والے تو کہتے ہیں کہ تم اسی طرح کی تھی۔آپ مسکرائے اور فرمایا۔بعد میں اسی طرح کہا کرتے ہیں دراصل لڑکیاں وزن کر کے دینی چاہئیں۔ایک دفعہ میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی کہ میاں صاحب مجھے تو اپنے بچوں کی تربیت کے متعلق بہت فکر رہتا ہے۔آپ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ فکر نہیں کرنا چاہیے۔دعا کرنی چاہیے اور میری کتاب اچھی مائیں بار بار پڑھا کرو اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کیا کرو۔میں آپ کی خدمت میں اپنی بہن کے رخصتانہ کی دعا میں شمولیت کی درخواست کرنے کے لئے حاضر ہوئی آپ نے فرمایا کہ میں آؤں گا۔میں نے پھر واپسی پر کہا کہ حضرت میاں صاحب آپ ضرور تشریف لائیں۔آپ نے نہایت شفقت سے فرمایا: تم کیسی باتیں کرتی ہو میں انشاء اللہ ضرور آؤں گا میں تو تمہارا ڈا کیہ بھی رہ چکا ہوں تو کیا آج تمہاری بہن کی شادی پر نہ آؤں گا۔“ ڈاکیہ کے لفظ میں آپ کا اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ 1947ء کے بعد قادیان سے میرے ابا جان کے خط دو سال تک آپ کی معرفت آتے رہے جس وقت خط آتا آپ فوراً بھجوا دیتے اور اکثر ایسا ہوا کہ اگر کوئی پاس نہیں ہے تو خود تشریف لاتے ہمارا درواز کھٹکھٹاتے اور کون ہے پوچھنے پر فرماتے۔بشیر احمد اور ہاتھ میں خط ہوتا کہ لو اپنا خط میں نے سوچا کہ جلدی پہنچا دوں تمہیں باپ کے خط کی انتظار ہو گی۔ایک بار اپنی کمزوری صحت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اب بات کرنے اور ملنے کو دل نہیں چاہتا ایک دہ دن تھا کہ تمہاری ڈاک خود پہنچا آیا کرتا تھا۔اللہ الہ کس قدر عظیم ہستی تھی آپ کو دوسروں کے احساسات کا کس قدرخیال تھا۔1950 کا واقعہ ہے ہمارے گھر کا دروازہ کھٹکا دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ حضرت 288