ذکر حبیب — Page 76
76 میں اللہ تعالیٰ کے ایک سو سے زائد صفاتی نام ہیں مگر اللہ اس کا خاص نام ہے۔عبرانی میں الو ہا۔ایک خدا جو آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسی محمد علیہم الصلوۃ والسلام کا ایک لگا نہ خدا ہے۔ایک بے طاقت خدا نہیں جو اپنی عاجز مخلوق کے گناہوں کو سوائے اس کے بخش نہیں سکتا کہ پہلے اپنے آپ کو پھانسی دے اور منہ پر تھو کا جائے۔نہ ہندوؤں کا خدا جو انسان کے ہاتھوں سے گھڑا اور کریدا جاتا ہے۔نہ فلسفی کا خدا جو صرف اُس کے خیال کا نتیجہ ہوتا ہے۔بلکہ ایک طاقتور خدا جو قادر مطلق عالم الغیب ہر جگہ موجود حکمتوں کا منبع ہے جو ہر زمانے میں اپنے نبی اور پاک بندے مبعوث کرتا رہتا ہے۔لفظ اللہ کے پورے مفہوم کے اظہار سے میں قاصر ہوں۔تمام قرآن شریف بسم اللہ سے لے کر الناس تک خدا تعالیٰ کی تعریف اور صفات سے بھرا ہوا ہے۔پس بسم اللہ کے معنے ہیں بنامِ خدا - اللہ تعالیٰ کی خاطر اور اُس کی رضا کے حصول کے لئے نہ کہ کسی اور غرض کے واسطے۔بسم الله ہمیشہ مومن کے منہ میں اور اس کے دل میں ہونی چاہئیے۔بسم اللہ مومن کی زندگی کی غرض و غایت ہے۔وہ دُنیا میں کوئی ایسا کام نہیں کر سکتا جس کے متعلق اُسے یہ یقین نہ ہو کہ اس میں خدا تعالیٰ کی رضا مندی ہے۔قرآن شریف میں لکھا ہے ، لوگوں کو سنا دے کہ میری نماز ، میری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔” میرے تمام خیالات ، اقوال، حرکات اور سکنات سب تیرے لئے ہیں اے میرے اللہ یہی اکثر میری دُعا ہے۔مسلم اپنی خوراک کا پہلا لقمہ لینے سے قبل بسم اللہ کہتا ہے۔اپنے گھر سے باہر نکلنے کے وقت بسم اللہ کہتا ہے۔گھر میں داخل ہونے کے وقت بسم اللہ کہتا ہے۔پانی پینے سے قبل بسم اللہ کہتا ہے۔غرض اس کا ہر ایک کام بسم اللہ کے ساتھ ہوتا ہے تا کہ اُس میں اور اُس کے متعلقات میں شیطان کا کچھ حصہ باقی نہ ہو۔چاہئیے کہ بسم اللہ تمہارا مقولہ ہواوراسی سے تمہارا اظہار مقصد ہو۔میں نے قرآن شریف کی پہلی آیت کی ایک مختصری کیفیت آپ کے سامنے بیان کی ہے۔اس کو آپ بغور پڑھیں اور اس مضمون کو اپنے مطالعہ میں رکھیں اور اس کے مطابق عمل کریں تو آپ کو حق اور پاکیزگی کے حاصل کرنے میں بہت راہنمائی اور امداد حاصل ہوگی۔ہر مناسب موقع اور مقام پر لفظ بسم اللہ کے استعمال کی عادت کر لیں۔آپ فرماتے ہیں کہ آپ کو ایک استاد کی ضرورت ہے جس کا تعلق آپ کو سچا اور کامل مسلمان بنادے۔سومیں نے آپ کو ایسے اُستاد کی خبر دے دی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کا عالمگیر استاد مقرر کر کے بھیجا ہے۔یورپ اور امریکہ کے