ذکر حبیب — Page 349
349 کا جواب آنے سے خوشی ہوگی اور پھر میں آپ کو زیادہ باتیں لکھوں گا۔ڈاکٹر صاحب کی طرف سے جواب محمد صادق از جانب ڈاکٹر اے جارج بیکر۔۔۔فلاڈلفیا ملک امریکہ مورخه ۲۸/اکتوبر ۱۹۰۴ء بخدمت مسٹر محمد صادق صاحب پیارے جناب اور بھائی۔آپ کا خط مجھے ۲۴ / تاریخ کو ملا تھا۔مگر میں انفلوئنز اسے علیل تھا۔اس واسطے تین دن جواب نہ لکھ سکا۔جہاں تک ممکن ہو۔چند ایک لفظ میں اپنا مذ ہب ظاہر کرتا ہوں۔باقی آپ خود سمجھ لیں۔میں مسلمان ہوں۔اور میرے عقائد وہی ہیں جو آپ کے ہیں۔میں اپنے ملک اور زمانہ کے مناسب حال اسلام پر عامل ہوں۔نبی عیسی کے متعلق میرا عقیدہ وہی ہے جو آپ کا ہے۔لا اله الا الله قل هو الله احد الله الصمد لم يلد و لم يولد ولم يكن له كفوا احد۔ایک ہی خدا ہے۔جو ازلی خدا ہے۔وہ نہ جنتا ہے اور نہ اس کو کسی نے جنا۔اور نہ کوئی اس کی مانند ہے۔میں خوب جانتا ہوں کہ تمام عمیق مذہبی خیالات مشرق سے نکلے ہیں۔اور تمام بڑے بڑے مذہبی علماء مشرق میں ہی ہوئے ہیں۔عیسوی مذہب بھی مشرق ہی سے نکلا تھا۔لیکن آج کل جو عیسوی مذہب دنیا میں پھیل رہا ہے۔یہ حضرت عیسیٰ کی تعلیم سے ایسا ہی دُور ہے۔جیسا کہ سیاہ سفید سے دُور ہے۔بہت سالوں کی بات ہے۔جبکہ میں نے مشرقی علوم کو سیکھنا شروع کیا۔اس وقت میں نے معلوم کیا کہ مذہب کا سچا اصول یعنی حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ“ ، حضرت داؤڈ ، حضرت سلیمان ، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد علیہم الصلوۃ والسلام نے سکھایا۔عیسوی تعلیم نے جس بات کو محسوس کیا تھا۔اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے آخر دُنیا میں بھیج دیا۔میں تب سے آنحضرت کی تعلیم کا متبع ہوں اور آپ کی تمام تعلیم پر پختہ ایمان رکھتا ہوں۔لیکن اسلامی مسائل کو اگر لفظی معنوں میں لیا جائے۔تو پوری سختی اور پابندی کے ساتھ ان الفاظ کی اطاعت ہر معنوں میں امریکہ میں مشکل ہے۔ہمارے لوگ ایشیائی دل نہیں رکھتے۔اس واسطے ہمیں اپنے ملک اور زمانہ کے ساتھ چلنا پڑتا ہے۔ان میں سے بڑے شہر جیسا کہ فلاڈلفیا ہے۔یہ امر میرے واسطے آسان ہوگا کہ جب بازار میں جا رہا ہوں تو راہ میں اپنا بُوٹ اور موزے اتار کر پاؤں دھونے کے واسطے ادھر اُدھر پانی تلاش کرتا پھروں۔تاہم میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعا مانگ سکتا ہوں اور محسوس کرتا ہوں کہ میری دعاء اس کے حضور میں قبول ہوئی۔اور وہ سنتا ہے اور جواب دیتا ہے اور یہ سب کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔