ذکر حبیب — Page 303
303 کہنے سے کہیں رفیق ہند علی گڑھ انسٹیوٹ گزٹ اور اخبار عام کی اڈیٹری نہ سمجھ لیں۔ہندوستان کے دیسی اخباروں کو امریکہ کے اخباروں سے وہی نسبت ہے۔جو ایک تین چار برس کے لڑکے کو ایک چالیس پچاس برس کے ذی علم و تجر بہ کار شخص کے ساتھ ہو سکتی ہے۔امریکہ کے اخباروں کی تعداد کا حساب ہزار سے نہیں ہوتا۔بلکہ لاکھ سے۔پھر اڈیٹر بھی اسی لیاقت و دماغ کا آدمی ہوتا ہے۔جو اگر ضرورت ہو تو وزارت کے کام کو بھی انجام دے سکے۔جس اخبار کے ویب صاحب اڈیٹر تھے۔وہ امریکہ میں دوسرے نمبر کا اخبار گنا جاتا تھا۔یعنی ایک ہی اخبار ساری قلمرو میں ایسا تھا۔جو ویب صاحب کے اخبار سے زیادہ درجہ اور رتبہ کا تھا۔ویب صاحب کی قابلیت اور لیاقت کا ایسا شہرہ ہوا کہ پریذیڈنٹ سلطنت امریکہ نے ان کو سفارت کے معزز عہدہ پر مقرر کر کے جزیرہ فلپائین کے پایہ تخت منیلا کو روانہ کیا۔سفیر سلطنت گورنر کا ہمر تبہ ہوتا ہے۔۱۸۷۳ء میں مسٹر ویب نے دین عیسوی کو ترک کر دیا۔انہوں نے دیکھا کہ عیسائی مذہب سراسر خلاف عقل و عدل ہے۔کئی برس تک ویب صاحب کا کوئی دین نہ تھا۔لیکن ان کو ایک قسم کی بے چینی تھی۔دل میں خیال کیا کہ اس جہان کے سارے ادیان پر غور کروں۔شائد ان میں سے کوئی سچا مذہب ہو۔پہلے پہل بدھ مذہب کی تحقیقات شروع کی۔تحقیقات کامل کے بعد اُس مذہب کو تشفی بخش نہ پایا۔اسی زمانہ میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب مجد دزمان کے انگریزی اشتہارات کی یورپ و امریکہ میں خوب اشاعت ہو رہی تھی۔ویب صاحب نے اس اشتہار کو دیکھا اور مرزا صاحب سے خط و کتابت شروع کی۔جس کا آخری نتیجہ یہ ہوا کہ ویب صاحب نے دین اسلام قبول کر لیا۔حاجی عبد اللہ عرب ایک میمن تاجر ہیں۔جو کلکتہ میں تجارت کرتے تھے۔جب اللہ تعالیٰ نے لاکھ دولاکھ کی پونجی کا اُن کو سامان کر دیا۔تو ہجرت کر کے مدینہ میں جابسے۔وہاں باغوں کے بنانے میں بہت کچھ صرف کیا۔بہت عمدہ عمدہ باغ تیار تو ہو گئے۔لیکن عرب کے بدوؤں کے ہاتھوں پھل ملنا مشکل ہو ا۔آخر بیچارے پریشانی میں مبتلاء ہو گئے۔جدہ میں آکر ایک مختصر پونجی سے تجارت شروع کر دی۔بمبئی سے تجارتی تعلق ہونے کی وجہ سے ہندوستان میں بھی کبھی کبھی آ جاتے ہیں۔یہ بزرگ ایک نہایت اعلیٰ درجہ کا مومن ہے۔اللہ نے اس شخص کو مادر زاد ولی بنایا ہے۔اس کمال و خوبی کا مسلمان میری نظروں سے بہت ہی کم گذرا ہے۔مثل بچوں کے دل گناہوں سے پاک وصاف ،خدا پر بہت ہی بڑا تو گل ، ہمت نہایت بلند ، مسلمانوں کی خیر خواہی کا وہ جوش کہ صحابہ یاد آ جائیں۔اے خُدا اگر عبداللہ عرب کے ایسے پانچ سو مسلمانوں کی جماعت بھی تو قائم کر دے۔تو ابھی مسلمانوں کی