ذکر حبیب — Page 182
182 فرمایا "خُدا اُن سے محبت کرتا ہے جو اُس کی عظمت و عزت کے واسطے جوش رکھتے ہوں۔ایسے لوگ ایک باریک راہ سے جاتے ہیں اور ہر کس و ناکس اُن کے ساتھ نہیں چل سکتا۔جب تک خُدا کے لئے جوش نہ ہو۔کوئی لذت اِنسان کو حاصل نہیں ہو سکتی۔جب تک انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے لئے ذاتی جوش نہ ہو۔اور نفس کی ملونی اور اپنے دُنیوی فوائد ومنافع کے خیال سے انسان خالی نہ ہو جائے۔تب تک اُس کی کوئی عبادت وصدقہ قابل قبول نہیں ہوتا۔جو شخص خدا کے لئے جوش رکھتا ہے۔وہ اپنے ابنائے جنس سے بڑھ جاتا ہے۔ایسے لوگ خُدا سے برکتیں پاتے ہیں۔“ استخاره ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک شخص کو استخارہ کا یہ طریق بھی بتلایا کہ پہلی رکعت میں سوره قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَفِرُونَ پڑھیں۔دوسری رکعت میں قُلْ هُوَ اللهُ اور التَّحِيَّات میں اپنے مطلب کے واسطے دُعا کریں۔پورانی نوٹ بک ۱۸۹۹ء فرمایا : ” ہر مومن کی قبر کو اُس کے درجہ ایمان کے مطابق رسُول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کے ساتھ قرب عطاء کیا جاتا ہے۔چونکہ مسیح موعود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کامل یگانگت اور اتحاد رکھتا ہے۔اس واسطے اس کے متعلق کہا گیا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر میں دفن کیا جائے گا۔“ فرمایا ” لفظ انسان دراصل انسان ہے۔یعنی دو اُنس۔انسان میں دو انس یعنی دو محرکات ہیں۔ایک خُدا کی طرف، ایک شیطان کی طرف کبھی انسان نیچے جاتا ہے۔کبھی او پر جاتا ہے۔“ فرمایا ”آسمانی علوم تقویٰ کے ساتھ کھلتے ہیں۔جو شخص واقعی اپنے میں تبدیلی کرے۔اُسے نئی حیات ملے گی۔تب وہ خدا کے معارف پائے گا۔ایسے ہی انسان اس قابل ہوں گے کہ وہ اس سلسلہ کو آگے چلا ئیں۔فرمایا ” انبیاء سب شہید ہوتے ہیں۔گو تلوار سے قتل نہ کئے جائیں۔شہید کی شہد کے ساتھ مناسبت ہوتی ہے۔اُس کی موت میں مرارت نہیں ہوتی۔“ فرمایا ” صدیق کمال درجہ پر پہنچ کر خلال نبوت میں آجاتا ہے۔“ فرمایا’داؤد نبی کا قول ہے۔کہ میں بچہ تھا۔بوڑھا ہو گیا۔اتنی عمر میں میں نے کبھی نہیں دیکھا۔کہ کوئی صالح خدا کو پہچاننے والا محتاج ہو، یا اُس کی اولا د ٹکڑے مانگے۔جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے