ذکر حبیب

by Other Authors

Page 117 of 381

ذکر حبیب — Page 117

ہوئی۔117 ( نوٹ :۔قومی کتب فروشوں کو چاہئیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں سے ایسی نصائح کے الفاظ لے کر اس قسم کی الواح طیار کریں۔میاں محمد یا مین صاحب تاجر یہ کام ایک حد تک کرتے رہے ہیں مگر اسے زیادہ عمدگی اور وسعت کے ساتھ سرانجام دینا چاہئیے۔(صادق) سید احمد مثیل یوحنا تھے نومبر ۹اء- فرمایا : جس طرح کہ حضرت عیسی علیہ السلام سے پہلے یوحنا نبی خدا تعالیٰ کی تبلیغ کرتے ہوئے شہید ہوئے تھے اسی طرح ہم سے پہلے اسی ملک پنجاب میں سید احمد صاحب توحید کا وعظ کرتے ہوئے سکھوں کے زمانہ میں شہید ہو گئے۔یہ بھی ایک مماثلت تھی جو خدا تعالیٰ نے پوری کردی۔چکڑالوی خیال کی تردید حذاء۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں ایک فقہی مسئلہ پیش کر کے درخواست کی کہ اس کا جواب صرف قرآن شریف سے دیا جائے۔حدیث سے نہ دیا جائے۔حضرت نے فرمایا "متقی کے واسطے مناسب ہے کہ اس قسم کا خیال دل میں نہ لائے کہ حدیث کوئی چیز نہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو عمل تھا وہ گویا قرآن کے مطابق نہ تھا۔آج کل کے زمانہ میں مرتد ہونے کے قریب جو خیالات پھیلے ہوئے ہیں ان میں سے ایک خیال حدیث شریف کی تحقیر کا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کاروبار قرآن شریف کے ماتحت تھے۔اگر قرآن شریف کے واسطے معلم کی ضرورت نہ ہوتی تو قرآن رسول پر کیوں اترتا۔یہ لوگ بہت بے ادب ہیں کہ ہر ایک اپنے آپ کو رسول کا درجہ دیتا ہے اور ہر ایک اپنے آپ کو ایسا سمجھتا ہے کہ قرآن شریف اسی پر نازل ہوا ہے۔یہ بڑی گستاخی ہے کہ ایک چکڑالوی مولوی جو معنے قرآن کے کرے اُس کو مانا جاتا ہے اور قبول کیا جاتا ہے اور خدا کے رسول پر جو معنے نازل ہوئے اُن کو نہیں دیکھا جاتا۔خدا تعالیٰ نے تو انسانوں کو اِس امر کا محتاج پیدا کیا ہے کہ ان کے درمیان کوئی رسول، مامور، مجد د ہو مگر یہ چاہتے ہیں کہ ان کا ہر ایک شخص رسول ہے۔اپنے آپ کو غنی اور غیر محتاج قرار دیتے ہیں۔یہ سخت گناہ ہے۔ایک بچہ محتاج ہے کہ وہ اپنے والدین وغیرہ سے تکلم سیکھے اور بولنے لگے۔پھر اُستاد کے پاس بیٹھ کر سبق پڑھے ہے۔جائے اُستاد خالی است۔چکڑالوی لوگ دھوکہ دیتے ہیں کیا قرآن محتاج ہے۔اے نادانو کیا تم بھی محتاج نہیں اور خدا کی ذات کی طرح بے احتیاج ہو۔قرآن