ذکر حبیب

by Other Authors

Page 115 of 381

ذکر حبیب — Page 115

115 اپنی زندگیاں وقف کریں۔اگر چہ اُس وقت قادیان میں مقیم اکثر مہاجرین ایسے تھے جو اسی نیت سے قادیان میں آ بیٹھے ہوئے تھے کہ دینی خدمات کے سرانجام میں اپنی بقیہ زندگی بسر کر دیں تا ہم نو جوانوں کے علاوہ بعض اور دوستوں نے بھی زندگی وقف کرنے کے عہد کی درخواستیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت اقدس میں پیش کیں اور چونکہ حضوڑ کی ڈاک کی خدمت اُن ایام میں میرے سُپر دتھی اس واسطے اُن درخواستوں پر چند الفاظ لکھ کر حضوڑ میرے پاس بھیج دیتے۔میں نے ایک رجسٹر بنا لیا اور اُن میں اُن کو درج کر دیتا۔چنانچہ وہ رجسٹر اب تک میرے پاس محفوظ ہے۔(۱) شیخ تیمور صاحب طالب علم علیگڑھ کالج۔ان کی درخواست پر حضرت صاحب نے لکھا بعد پورا کر نے تعلیم بی۔اے اس کام پر لگیں۔(۲) چوہدری فتح محمد صاحب ( سیال ایم۔اے حال ناظر اعلیٰ جماعت احمد یہ قادیان) ان کی درخواست پر حضور نے تحریر فرمایا ” منظور (۳) (مولینا سید محمد سرور شاہ صاحب ( حال پرنسپل جامعہ احمدیہ قادیان ) ان کی درخواست پر حضرت صاحب نے تحریر فرمایا ”آپ کو اس کام کے لائق سمجھتا ہوں۔“ (۴) میاں محمد حسن صاحب دفتری رساله ریویو آف ریجنز (حال پنشنز محصل جن کے صاحبزادے مولوی فاضل رحمت علی صاحب آج کل جاوا میں تبلیغ کا کام کر رہے ہیں ) انہوں نے اپنی درخواست میں لکھا ”میں زندگی وقف کرتا ہوں۔کم علم ہوں۔جہاں حضور چاہیں لگا دیں۔“ ان کی درخواست پر حضور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تحریر فرمایا ” قبول ہے“ ال (۵) عاجز راقم پہلے ہی اِسی ارادے سے سرکاری ملازمت کو استعفے دے کر ۱۹۰۷ ء میں قادیان آ گیا ہوا تھا تا ہم حضور کے اس فرمان پر میں نے بھی ایک تحریری درخواست دی اور اُس میں یہ الفاظ لکھے۔اگر اس لائق سمجھا جاؤں تو دنیا کے کسی حصہ میں بھیجا جاؤں۔“‘ اس پر حضوڑ نے تحریر فرمایا منظور۔(1) غلام محمد طالب علم بی اے کلاس علیگڑھ کالج ( حافظ صوفی غلام محمد صاحب بی۔اے ماریشس حال معلم تعلیم الاسلام ہائی سکول ) انہوں نے اپنی درخواست میں لکھا ” میری تمام زندگی خدمات دین کے لئے وقف ہے۔ان کی درخواست پر حضرت صاحب نے لکھا ” بی۔اے کا نتیجہ نکلنے کے بعد اس کام کے واسطے تیار ہو جائیں۔“