ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 94 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 94

94 ایک ہی کیفیت سے داخل ہوں اور اسی کیفیت سے باہر آئیں بلکہ ہر روز ایک نیا مضمون آپ پر ظاہر ہوتا چلا جائے گا۔ہر روز رمضان مبارک کی نئی برکتیں آپ کی آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتی رہیں گی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اگر اس طرح آپ جستجو اور محنت سے اس مہینے سے گزریں گے تو ایک نیا وجود پاکر نکلیں گے۔اللہ تعالٰی ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔جب نکل جاتے ہیں تو پھر واپسی کا دور بھی شروع ہو جایا کرتا ہے اور اسی رمضان مبارک میں یہ بھی دعا کرنی چاہئیے کہ جس مقام سے چلے تھے اگلے رمضان مبارک میں داخل ہوتے وقت اس مقام پر نہ پہنچ چکے ہوں اور بلکہ خطرہ ہے کہ اس سے نیچے نہ گر چکے ہوں۔بسا اوقات یہ ہوتا ہے کہ ایک انسان رمضان مبارک میں سے نیک نیت کے ساتھ گزرتا ہے۔جدوجہد کے ارادے لے کر داخل ہوتا ہے۔پھر اسے اپنے ارادوں کو عمل میں ڈھالنے کی توفیق بھی ملتی ہے اور وہ رمضان سے بہت کچھ پاتا ہے اور بہت پریاں کھو کر اس مہینے سے باہر آتا ہے لیکن جب وہ باہر آتا ہے تو پھر از سرنو وہی غفلتوں کا دور شروع ہو جاتا ہے اور وہی مستیاں جن کے نتیجے میں جگہ جگہ گندگی جمع ہونی شروع ہو جاتی ہے، عود کر آتی ہیں۔ایسی صورت میں بعض دفعہ یہ خطرہ ہوتا ہے که آئندہ رمضان کے وقت انسان اپنے آپ کو اس بد تر حالت میں پائے جس حالت میں گزشتہ رمضان میں داخل ہوا تھا۔پس رمضان کے یہ جو دو کنارے ہیں ان کے مضمون کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے۔داخل ہونے والا جو کنارہ ہے اس میں ہم گناہوں اور بد اعمالیوں سے بو جھل ہو کر داخل ہوتے ہیں۔بہت سے داغ ہمارے چہرے پر لگے ہوئے ہوتے ہیں۔بہت سے کٹا نہیں ہمارے جسم کو گندا کئے ہوئے ہوتی ہیں۔ہم صفائی کی نیت سے اور پاک نیت سے رمضان مبارک میں داخل ہوتے ہیں، نہا دھو کر صاف ستھرے ہو کر باہر نکلتے ہیں اور پھر اچانک یہ محسوس ہوتا ہے کہ اب محنتوں کا دور ختم ہوا۔عید کے ساتھ ہی یہ دھو کہ لگ جاتا ہے کہ یہ عید نیکیوں کی عید نہیں بلکہ گناہوں کی زندگی کی طرف لوٹنے کی عید ہے۔اور باشعور طور پر انسان یہ نہیں کرتا لیکن لاشعوری طور پر دنیا کے اکثر انسانوں کے ساتھ یہی کچھ ہوتا ہے اور وہ معلوم بھی نہیں کر