زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 190

زریں ہدایات (برائے طلباء) 190 جلد چهارم تبھی پورا ہو سکتا ہے جبکہ تمہارے قلوب میں ایمان اور محبت الہی کی آگ روشن ہو جائے اور تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچا اور حقیقی تعلق پیدا کر لو۔یہی وہ بنیادی چیز ہے جو تمہارے اندر محبت، قربانی ، وقت کی قدر عقل کی بلندی، ارادوں کی وسعت غرض تمام اعلیٰ صفات پیدا کر سکتی ہے۔“ حضور نے کالج کے وقار کو بلند کرنے اور کالج کے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے بعض اہم تجاویز طلباء کے سامنے رکھیں اور کالج کے مفاد کے لئے زیادہ سے زیادہ قربانی کرنے کی تحریک کی اور فرمایا:۔وو یہ خیال کر لینا ایک حماقت کی بات ہے کہ قربانی کا معیار کسی جگہ جا کر ختم ہو جاتا ہے۔جس طرح علم ہمیشہ بڑھتا چلا جاتا ہے اسی طرح محنت اور قربانی بھی غیر محدود چیزیں ہیں۔پس آپ کو غیر محدود طور پر محنت اور قربانی کی عادت ڈالنی چاہئے۔یاد رکھو جو محنت اور قربانی کی حد بندی کرتا ہے وہ بھی دنیا میں بڑا کام نہیں کر سکتا اور نہ وہ ایک زندہ قوم کا کامیاب فرد بن سکتا ہے۔“ حضور نے فرمایا:۔ہمیں صرف تمہارے اچھے نتائج مطمئن نہیں کر سکتے۔ہمیں تمہارے پاک دل اور روشن دماغوں کی ضرورت ہے۔ایسا دل جس میں محبت الہی کی آگ روشن ہو اور ایسے دماغ جو کنویں کے مینڈک اور صرف یورپ کے خوشہ چیں نہ ہوں بلکہ قرآن کریم پر تدبر کرنے اور اس کے نتیجہ میں خود نئے نئے علوم پیدا کرنے اور یورپ کو سکھانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔“ (الفضل و راکتوبر 1949ء)