زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 180
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 180 جلد چهارم ہمارے تعلیمی اداروں کو چاہئے کہ اپنے اندر بیداری پیدا کریں۔طلباء کی علمی ، اخلاقی اور مذہبی نگرانی کے سلسلہ میں اپنے فرائض کو پوری ہوشیاری سے ادا کرنا چاہئے حضرت خلیفہ اسی الثانی نے 18 نومبر 1946ءکوتشہد،تعوذ اورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد ایک اہم خطاب فرمایا جو حسب ذیل ہے:۔1 ایک حدیث میں رسول کریم ﷺ نے جنتیوں کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرمایا ہے کہ اھل الْجَنَّةِ بُلة I یعنی جنتی بالکل سادہ مزاج ہوں گے۔اس حدیث سے بعض لوگوں نے غلطی سے یہ سمجھ لیا ہے کہ دنیاوی کاموں میں ہوشیاری اور بالغ نظری بھی ایک مومن کی شان کے خلاف ہے حالانکہ رسول کریم ﷺ کا عملی نمونہ ان معنوں کو باطل ثابت کر رہا ہے۔رسول کریم ﷺ کے مدینہ میں تشریف لے جانے کے بعد متواتر آٹھ سال تک کفار سے آپ کی لڑائی جاری رہی۔مگر اس لمبے عرصہ میں ایک بھی مثال اس قسم کی نہیں ملتی کہ مسلمانوں کی غفلت کی حالت میں کفار نے ان پر حملہ کر دیا ہو۔سو کے قریب مسلمانوں کی کفار کے ساتھ لڑائیاں ہوئیں۔اور اگر چھوٹے چھوٹے غزوات کو بھی شامل کر لیا جائے تو دواڑھائی سو کے درمیان تک ان کی تعداد پہنچ جاتی ہے یعنی اگر اوسط نکال لی جائے تو ان آٹھ سالوں میں متواتر ایک ایک مہینے میں تین تین اور چار چار واقعات اس قسم کے ہو جاتے تھے۔مگر جہاں تک رسول کریم ﷺ کی نگرانی کا سوال ہے مؤرخ حیران ہوتے ہیں کہ ان بے شمار لڑائیوں میں اتنے لمبے عرصہ تک ایک بھی مثال اس قسم کی نہیں ملتی کہ دشمن