زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 337

زریں ہدایات (برائے طلباء) 337 جلد سوم نگران ہوں۔بچے چھوٹی عمر سے لے کر 7، 8 سال تک ان میں رہیں اور اس عرصہ میں ان میں اعلیٰ اخلاق پیدا کئے جائیں۔پھر یہ جماعت دوسروں کو اپنے رنگ میں ڈھالے۔یہ لڑکے اور لڑکیاں جن کے 8،7 سال تک کی عمر میں ایک جگہ تربیت پانے میں کوئی حرج نہیں قوم کے لئے بہت مفید ہو سکتے ہیں۔اگر ہم ایسے ہو مز قائم کر سکیں تو اس کے ذریعہ سے اخلاق پیدا کئے جاسکتے اور ایسی تربیت ہو سکتی ہے جو ہماری جماعت کو دوسروں سے بالکل ممتاز کر دے۔مگر یہ بات کبھی حاصل نہیں ہو سکتی جب تک کا فی تعلیم یافتہ عورتیں نہ ہوں۔اس وجہ سے میں سمجھتا ہوں زنانہ کالج مردانہ کالج سے بھی زیادہ اہم ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں مردانہ کالج کی ضرورت نہیں۔ضرورت ہے مگر اس کے متعلق سرکاری طور پر جو شرائط ہیں وہ ہم ابھی پورے نہیں کر سکتے۔لیکن اگر ہم ان شرائط کو پورا کر سکیں تو بھی میرے نزدیک لڑکیوں کے لئے کالج ضروری ہے۔کیونکہ لڑکے تو باہر بھی رہ سکتے ہیں لیکن لڑکیوں کے لئے باہر رہنا مشکل ہے۔ان حالات کو مد نظر رکھ کر جیسا کہ ناظر صاحب نے بیان کیا ہے بے سروسامانی کی حالت میں کام شروع کیا جا رہا ہے۔ہم امید کرتے ہیں کہ ہائی سکول کے اساتذہ نے لڑکیوں کی تعلیم کے متعلق جیسے پہلے محنت کی ہے اب بھی کریں گے۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ لڑکیوں کی ایف اے کلاس کے لئے مضمون جیوگرافی (Geography) مقرر کیا گیا ہے۔میں نے سنا ہے عام طور پر طالب علم یہ مضمون نہیں لیتے۔شاید اس لئے کہ اسے مفید نہیں سمجھا جاتا یا اس لئے کہ اس میں امتحان سخت ہوتا ہے اور لڑ کے کم پاس ہوتے ہیں۔دراصل یہ ایسا علم ہے جس کی زنجیر نہیں ہوتی اور اس وجہ سے یہ مشکل سے یاد ہوتا ہے۔جن علوم میں زنجیر ہوتی ہے وہ جلد یاد ہوتے ہیں کیونکہ ایک بات سے دوسری بات یاد آ جاتی ہے۔مجھے معلوم ہوا ہے فلاسفی میں امتحان دینے والے زیادہ نمبر حاصل کرتے ہیں کیونکہ اس میں زنجیر چلتی | ہے۔میرے خیال میں یہ زیادہ بہتر ہوگا کہ اس مضمون کے لئے آدمی تیار کر لیا جائے۔ہمارے قاضی محمد اسلم صاحب پروفیسر اس میں ماہر ہیں۔سکول میں اب جو چھٹیاں ہونے والی ہیں ان میں ان سے یا کسی اور سے ضروری ضروری باتیں پڑھالی جائیں اور یہ مضمون لڑکیوں کے لئے