زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 292
زریں ہدایات (برائے طلباء) 292 جلد سوم ہے:۔ماں باپ پر تربیت اولاد کی ذمہ داری کس قدر ہے والدین اور تربیت اولاد کے حوالے سے حضرت خلیفہ مسیح الثانی کی ایک تحریر جب ذیل دو بچپن کی تعلیم ایک آہنی میخ ہوتی ہے جس کا نکالنا آسان کام نہیں۔اسلام اگر آج تیرہ سوسال کے بعد دنیا کی نصف آبادی بلکہ تہائی کے دلوں میں بھی داخل نہیں ہوا تو اس کی وجہ وہی خیالات ہیں جو لوگوں کے دلوں میں بچپن کی عمر میں داخل کر دیئے گئے ہیں۔پس جب باطل اس عمر میں دل میں داخل ہوتا ہے اور نکلتا نہیں تو حق کا کیا حال ہوگا۔جب اس عمر میں کہ دل ایک صاف لوح کی طرح ہوتا ہے اسے نقش کیا جائے۔اسی امر کو مد نظر رکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مدرسہ تعلیم الاسلام کا اجرا کیا اور اسی امر کو مدنظر رکھ کر آپ کے بعد آپ کے خلفاء اس کام کو چلا رہے ہیں۔مگر ہماری کوششیں اس امر میں اُس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتیں جب تک کہ دوسرے لوگ بھی اپنی ذمہ داری کو نہ سمجھیں۔سنانے والے کے کلام کا اثر کارآمد نہیں ہو سکتا جب تک کہ جماعت کے احباب اس سکول میں اپنے بچے پڑھنے کے لئے نہ بھیجیں۔جہاں جسمانی امراض سے اپنے بچوں کے بچانے کے لئے اس قدر کوشش کی جاتی ہے وہاں روحانی امراض سے بچانے کے لئے کیا کچھ کوشش نہ ہونی چاہئے۔میں اپنے احباب سے امید کرتا ہوں کہ وہ پچھلی بے پروا ہی کو ترک کر کے آئندہ اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں گے اور نہ صرف اپنے بچوں کو قادیان بھیجیں گے بلکہ دوسرے لوگوں میں بھی تحریک کریں گے تا کہ مدرسہ تعلیم الاسلام کی اصل | غرض پوری ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منشاء کی تکمیل ہو۔