زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 118
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 118 جلد دوم میں خیال کر لیتا ہے کہ اس کے لئے رنج اور تکلیف کا کوئی موقع ہی نہیں اور ایک نادان انسان رنج اور مصیبت کی گھڑیوں میں سمجھ لیتا ہے کہ اس کے لئے کوئی خوشی باقی نہیں۔حالانکہ بسا اوقات رنج اور خوشی تو ام ہوتی ہیں۔بسا اوقات جبکہ کوئی شخص خوشی منا رہا ہوتا ہے رنج اور مصیبت اس کے دروازہ پر کھڑی اسے جھانک رہی ہوتی ہے۔اور بسا اوقات جبکہ کوئی شخص دکھ اور تکلیف کی حالت میں سمجھ لیتا ہے کہ اس کے لئے خوشی نابود ہو چکی ہے خوشی اس کی پیٹھ کے پیچھے ناچ رہی ہوتی ہے۔اس ایڈریس کا موقع بھی دنیا کی عام حالت کا نقشہ اتفاقی طور پر بن گیا ہے۔جس ان جذبات پر نگاہ ڈالی جاتی ہے جو باہر سے آنے والے مبلغین کو دیکھ کر پیدا ہوتے ہیں۔یہ دونوں مبلغ اس وقت اتفاقا دائیں طرف بیٹھے ہیں یا بالا رادہ، ان کو دیکھ کر جب خوشی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں تو بائیں طرف نگاہ کرنے سے جہاں جانے والے مبلغ بیٹھے ہیں معا ایک شاعر کی زبان میں یہ آواز آتی ہے کہ جدائی کی گھڑی سر پر کھڑی ہے اسی طرح جب ہم بائیں طرف دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ ہمارے جسم کے ٹکڑے اور ہمارے عزیز دوست ہم سے جدا ہو کر جا رہے ہیں تو دائیں طرف سے آواز آتی ہے انہیں ماتم ہمارے گھر میں شادی یہی نقشہ ساری دنیا میں نظر آتا ہے۔اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کو اپنے جذبات ایک حد کے اندر رکھنے چاہئیں کیونکہ کسی ایک طرف لڑھک جانے والا انسان ہمیشہ ناکام و نا مرا در ہتا ہے۔تمام انسان دو قسموں میں منقسم ہیں۔ایک قسم کے لوگ طبعی طور پر خوشی کے جذبات کی طرف مائل ہوتے ہیں۔وہ ہر چیز کا روشن پہلو لینے کے عادی ہوتے ہیں۔ان کو انگریزی میں اپنی مسٹ (Optimist) کہتے ہیں۔اور دوسری قسم کے لوگ فطری طور پر ہر چیز کا تاریک پہلو دیکھتے اور مایوسی کے جذبات کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ان کو انگریزی میں پیسی مسٹ (Pessimist) کہتے ہیں۔لیکن سچائی اور کامیابی کا گر درمیان