زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 170

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 170 جلد اول وہاں جانے کی نسبت زیادہ خدا کے دین کی خدمت کر سکیں۔تم نے اپنے عمل سے کام کیا جس کو ہم نے اپنی نیت سے کیا اس لئے ہم سب ایک ہی میدان میں کھڑے تھے۔انسانی دعائیں اور تدبیریں جو ہم کر سکتے ہیں کیں اور انسان جس قدر بلند کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں اتنا کیا لیکن ہمارے لئے اصل خوشی کی جو بات ہے وہ یہ ہے کہ اب خدا نے تم سے نیا حساب شروع کر دیا ہے اس لئے اس نئی کاپی کو صاف رکھنے کی کوشش کرو تا کہ مرنے کے وقت تمہاری حالت ویسی ہو جیسے ایک عربی شاعر نے کہا ہے۔انْتَ الَّذِي وَلَدَتْكَ أُمُّكَ بَاكِيًا وَالنَّاسُ حَوْلَكَ يَضْحَكُوْنَ سُرُوْرًا فَاحْرِضْ عَلَى عَمَلٍ تَكُوْنُ إِذَا بَكُوْا فِي وَقْتِ مَوْتِكَ ضَاحِكًا مَسْرُورًا 4 شاعر کہتا ہے اے انسان! تو وہ ہے کہ جب پیدا ہوا تھا تو تو رو رہا تھا اور لوگ خوشی سے ہنس رہے تھے کہ ہمارے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے۔اب تم کو چاہئے کہ لوگوں سے اس کا بدلہ لے اور مومن شریفانہ بدلہ لیتا ہے پس تو اس طرح بدلہ لے کہ ایسے عمل کر کہ جب مرنے لگے تو تو ہنس رہا ہو کہ میں اپنی ذمہ داری کو پورا کر کے چلا ہوں اور لوگ رور ہے ہوں کہ ایسا نفع رساں انسان ہم سے جدا ہو رہا ہے۔پس تم اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ایسے ہی بن جاؤ یہی ساری نصائح کی جڑھ اور سب کا میابیوں کا گر ہے۔اب میں دعا کرتا ہوں دوسرے احباب بھی کریں کہ خدا تعالیٰ ان کو آئندہ بھی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی توفیق دے اور جن کو تا ہیاں ہو گئی ہیں ان کی کوتاہیاں معاف کرے اور جو اپنی مجبوریوں کی وجہ سے نہیں جا سکے ان کی نیتوں کے مطابق ان سے سلوک کرے۔“ (الفضل 6 جولائی 1923) 1 : ابن ماجه ابواب الجهاد باب من حبسه العذر عن الجهاد صفحه 399 حدیث 2764 ، 2765 مطبوعہ ریاض اپریل 1999ء الطبعة الأولى