زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 155
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 155 جلد اول احمدی مجاہدین سے خطاب 20 جون 1923 ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے احمدی مجاہدین کو جن زریں ہدایات سے نوازاوہ حسب ذیل ہیں۔تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔آج سے تین مہینہ پہلے ہم لوگ اسی راستہ پر اس پہلے وفد کو چھوڑنے آئے تھے جو علاقہ ملکانہ میں تبلیغ کے لئے روانہ ہوا تھا۔ان لوگوں کی کیا حالت تھی اور کیا ہوئی ، ان پر کیا گزری ، انہوں نے کیا کام کیا اس کے متعلق چند ہدا یتیں دینے کے بعد ذکر کروں گا۔پہلے چند ہدایتیں دینا چاہتا ہوں جن کا یا درکھنا آپ لوگوں کے لئے ضروری ہے۔پہلی ہدایت تو یہ ہے کہ کوئی ہدایت مفید نہیں ہو سکتی جب تک اس پر عمل نہیں کیا جاتا۔قرآن کریم میں ساری ہدا یتیں ہیں لیکن اس زمانہ میں مسلمانوں کے لئے مفید نہیں بلکہ قرآن نقصان دہ ہو رہا ہے۔اس لئے نہیں کہ قرآن میں کوئی نقص آ گیا ہے بلکہ اس لئے کہ لوگ خراب ہو گئے اور اس کی طرف توجہ نہیں رہی۔مصر کے ایک عالم نے لوگوں کی حالت پر تمسخر کرتے ہوئے اور یہ بتانے کے لئے کہ لوگ کس طرح قرآن شریف کو مانتے ہیں لکھا ہے کہ یورپ کے لوگ کہتے ہیں قرآن کا کوئی فائدہ نہیں مگر ان کو کیا معلوم ہے قرآن کے بڑے فوائد ہیں۔دیکھو یہ فائدہ کیا کم ہے کہ ساری عمر قرآن نہ پڑھو لیکن جب مرجاؤ تو قبر پر قرآن پڑھا جاتا ہے۔پھر یہ کیا کم فائدہ ہے کہ اسے خوبصورت غلافوں میں لپیٹ کر زینت کے طور پر گھر میں رکھا جاتا ہے اور جب کوئی شخص کسی غلط بات کو نہ مانتا ہوں تو اس کو جھوٹی بات کا یقین دلانے کے لئے قرآن کو ہاتھ میں لے کر یقین دلایا جاتا ہے۔تو کی اس طرح قرآن با وجود مفید ہونے کے لعنت کا طوق ہو گیا۔یہ بہترین چیز تھی مگر اس کے غلط