حضرت زینب ؓ بنت محمد ﷺ

by Other Authors

Page 5 of 18

حضرت زینب ؓ بنت محمد ﷺ — Page 5

حضرت زینب بنت حضرت محمد علی 5 ہجرت فرمائی تو حضرت زینب اپنی سسرال میں تھیں۔مدینہ پہنچ کر جب 2 ہجری میں مسلمانوں کا پہلا غزوہ ، غزوہ بدر کفار مکہ سے ہوا تو حضرت ابوالعاص بھی مکہ والوں کی طرف سے مسلمانوں سے لڑے۔(5) حضرت زینب مکہ میں ہی تھیں۔جنگ بدر میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور کفار مکہ قیدی بنائے گئے تو ان میں حضرت ابو العاص بھی شامل تھے ان گرفتاریوں کی خبر ملکہ پہنچی تو ان لوگوں کے گھر والوں نے قیدیوں کی رہائی کے لئے فدیہ بھیجا۔حضرت زینب نے اپنے دیور کے ہاتھ یمنی عقیق کا ہار جو اُن کی والدہ نے شادی کے موقع پر دیا تھا بطور صلى الله فدیہ دے کر روانہ کیا۔حضور علے اس ہار کو دیکھ کر غمزدہ ہو گئے۔کیونکہ ان کی پیاری بیوی خدیجہ شعب ابی طالب کے واقعہ کے بعد وفات پا چکی تھیں۔وہ ہار دیکھ کر حضور ﷺ کے دل میں حضرت خدیجہ کی یاد الله تازہ ہو گئی اسی لئے آپ ﷺ نے لوگوں کو کہا اگر تم لوگ مناسب خیال کرو تو زینب کے شوہر کو رہا کر دو اور اس کا ہار بھی واپس کر دو۔چنانچہ وہ رہا کر دیئے گئے اور ہار بھی واپس کر دیا۔چونکہ سب قیدی فدیہ پر چھوڑے گئے تھے اور یہ شانِ نبوت کے خلاف تھا کہ حضرت ابوالعاص صرف آنحضور ﷺ کے داماد ہونے کی حیثیت سے بغیر کسی فدیہ کے چھوڑ دیئے جائیں اس لئے حضرت ابوالعاص کا فدیہ یہ قرار پایا کہ وہ مکہ صلى الله