حضرت زینب ؓ بن جحش — Page 21
حضرت زینب 21 کو بہت تکلیف ہوئی تو اس پر اللہ تعالیٰ نے پردہ کی آیات نازل کرتے ہوئے فرمایا:۔اے مومنو! نبی کے گھروں میں سوائے اس کے کہ تمہیں کھانے کے لئے بلایا جائے ، ہرگز داخل نہ ہوا کرو۔وہ بھی اس شرط سے کہ کھانا پکنے کے انتظار میں نہ بیٹھے رہا کرو اور نہ باتیں کرنے کے شوق میں بیٹھے رہا کرو۔ہاں جب تم کو بلا یا جائے تو پھر ضرور چلے جایا کرو۔یہ امر ( یعنی بے فائدہ بیٹھے رہنا یا پہلے آ جانا ) نبی کو تکلیف دیتا تھا مگر وہ ( تمہارے جذبات کا خیال کرتے ہوئے ) تم کو منع کرنے سے حیا کرتا تھا۔مگر اللہ تعالیٰ کچی بات بیان کرنے سے (لوگوں کے خیالات کی وجہ سے ) باز نہیں رہتا اور چاہیئے کہ جب تم ان (یعنی نبی کی بیویوں) سے کوئی گھر کی چیز مانگو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو۔یہ بات تمہارے دلوں اور ان کے لئے بہت اچھی ہے۔“ (الاحزاب :۵۴) اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے روازے پر پردہ لٹکا دیا اور لوگوں کو گھر کے اندر آنا منع ہو گیا۔یہ واقعہ ہجرت کے پانچویں سال کا ہے۔(7)