ظہورِ امام مہدی ؑ

by Other Authors

Page 89 of 97

ظہورِ امام مہدی ؑ — Page 89

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنّى أَنَا الْمَسِيحُ الْمُحَمَّدِيُّ وَأَحْمَدُ الْمَهْدِقُ “۔کہ اے لوگو! میں ہی مسیح محمدی ہوں اور میں ہی احمد مہدی ہوں۔* یہ وہ ثبوت ہیں جو میرے مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے پر کھلے کھلے دلالت کرتے ہیں۔اور اس میں کچھ شک نہیں کہ ایک شخص بشرطیکہ متقی ہو جس وقت ان تمام دلائل پر غور کرے گا تو اس پر روزِ روشن کی طرح کھل جائے گا کہ میں خدا کی طرف سے ہوں۔انصاف سے دیکھو کہ میرے دعوی کے وقت کس قدر میری سچائی پر گواہ جمع ہیں“۔(تحفہ گولڑویہ صفحہ ۱۰۲) * ” بہت سے اہلِ کشف مسلمانوں میں سے جن کا شمار ہزار سے بھی کچھ زیادہ ہوگا اپنے مکاشفات کے ذریعے سے اور نیز خدا تعالیٰ کی کلام کے استنباط سے بالا تفاق یہ کہہ گئے ہیں کہ مسیح موعود کا ظہور چودھویں صدی کے سر سے ہرگز ہر گز تجاوز نہ کرے گا اور ممکن نہیں کہ ایک گروہ کثیر اہلِ کشف کا کہ جو تمام اولین و آخرین کا مجمع ہے وہ سب جھوٹے ہوں اور اُن کے تمام استنباط بھی جھوٹے ہوں۔اس لئے اگر مسلمان اس وقت مجھے قبول نہ کریں جو قرآن اور حدیث اور پہلی کتب کی رُو سے اور تمام اہل کشف کی شہادت کی رُو سے چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوا ہوں تو آئندہ ان کی ایمانی حالت کے لئے سخت اندیشہ ہے۔کیونکہ میرے انکار سے اب اُن کا یہ عقیدہ ہو جانا چاہئے کہ جس قدر قرآن شریف سے مسیح موعود کے لئے علماء کبار نے استنباط کئے تھے وہ سب جھوٹے تھے۔اور جس قدر اہلِ کشف نے زمانہ مسیح موعود کے لئے خبریں دی تھیں وہ خبریں سب جھوٹی تھیں اور جس قدر آسمانی اور زمینی نشان حدیث کے مطابق ظہور میں آئے جیسے رمضان میں عین تاریخوں کے مطابق خسوف و کسوف کا ہو جانا۔زمین پر ریل کی سواری کا جاری ہونا اور ذوالسنین ستارہ کا نکلنا اور آفتاب کا تاریک ہو جانا، یہ سب نعوذ باللہ جھوٹے تھے۔ایسے خیال کا نتیجہ ( 19 )