ظہورِ امام مہدی ؑ

by Other Authors

Page 76 of 97

ظہورِ امام مہدی ؑ — Page 76

ہماری دعا ہے یہ صبح و مسا تمہارا ہو ظاہر نشاں السلام ۲۔مولوی سید محمد سبطین صاحب نے ۱۳۳۶ ہجری میں کہا:۔بیا اے امام صداقت شعار که بگوشت از حد غم انتظار زروئے ہمایوں بینگن حجاب عیاں ساز رخسار چوں آفتاب بروں آئید از منزل اختفا نمایاں گن آثار مهر و وفا (غایۃ المقصو دجلد ۲ صفحه ۸۴ والصراط التوی فی احوال المهدی صفحه ۳۶۳) ۳۔جناب سید محمد عباس قمر زیدی الواسطی لکھتے ہیں :۔فطرت عالم مقتضی ہے اور عقل شہادت دیتی ہے اور احتیاج نوع انسانی بتاتی ہے کہ زمانے میں حجتہ اللہ کا وجود ضروری ہے خواہ بصورت نبی ہو یا بصورتِ امام۔۔۔۔۔۔دنیا ہر گز وجود امام سے خالی نہیں رہ سکتی۔اس لئے وجو د امام سے انکار دراصل نبوت و قانون قدرت ،صحیفۂ فطرت و آیات الہی سے انکار کر دینے کے مترادف ہے جو بلا تفریق مذہب وملت کسی عظمند کے لئے زیبا نہیں ہوسکتا۔یہی وجہ ہے کہ اس دور کے عقلمند جرمن بھی کہتے ہیں کہ اب اصلاح عالم کے لئے سپر مین 66 ضروری ہے۔آثار قیامت و ظهور حجت، مطبوعه ۱۹۵۲ ء صفحه ۱۸،۱۷) ۴۔الشیخ علی اصغرا بہر وجروی کی کتاب میں آیت کریمہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّہ کی تفسیر میں لکھا ہے:۔ایس آیت شریفہ دلالت بر ظہور مہدی عجل الله فرجه بالاشاره میکند۔۔۔۔۔۔۔۔تا بحال که هزار و دو بست و هفتاد و پنجسال که از ہجرت آنحضرت صلی اللہ علیہ و