ظہورِ امام مہدی ؑ

by Other Authors

Page 24 of 97

ظہورِ امام مہدی ؑ — Page 24

سکے۔اس بات کے لئے خدا تعالیٰ نے تمام مخالفین کو ملزم اور لاجواب کرنے کے لئے مجھے پیش کیا ہے اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ ہندوؤں اور عیسائیوں اور سے سکھوں میں ایک بھی نہیں جو آسمانی نشانوں اور قبولیوں اور برکتوں میں میرا مقابلہ کر سکے۔یہ بات ظاہر ہے کہ زندہ مذہب وہی مذہب ہے جو آسمانی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہو اور کامل امتیاز کا نور اُس کے سر پر چمکتا ہو۔سو وہ اسلام ہے۔کیا عیسائیوں میں یا سکھوں میں یا ہندوؤں میں کوئی ایسا ہے کہ اس میں میرا مقابلہ کر سکے؟ سومیری سچائی کے لئے یہ کافی حجت ہے کہ میرے مقابل پر کسی قدم کو قرار نہیں۔اب جس طرح چاہوا پنی تسلی کرلو کہ میرے ظہور سے وہ پیشگوئی پوری ہوگئی جو براہین احمدیہ میں قرآنی منشاء کے موافق تھی اور وہ یہ ہے۔"هُوَ الَّذِی اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَق لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله"۔( تریاق القلوب صفحه ۵۴) یہ انسان کی بات نہیں خدا تعالیٰ کا الہام اور رب جلیل کا کام ہے۔۔۔اسلام کے لئے پھر اُسی تازگی اور روشنی کا دن آئے گا جو پہلے وقتوں میں آچکا اور وہ آفتاب اپنے پورے کمال کے ساتھ پھر چڑھے گا جیسا کہ پہلے چڑھ چکا ہے۔لیکن ابھی ایسا نہیں۔ضرور ہے کہ آسمان اس کو چڑھنے سے روکے رہے جب تک کہ محنت اور جانفشانی سے ہمارے جگر خون نہ ہو جائیں۔اور ہم سارے آراموں کو اس کے ظہور کے لئے نہ کھودیں۔اور اعزاز اسلام کے لئے ساری ذاتیں قبول نہ کر لیں۔اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ چاہتا ہے وہ کیا ہے؟ ہمارا اسی راہ میں مرنا۔یہی موت ہے جس پر اسلام کی زندگی ، مسلمانوں کی زندگی اور زندہ خدا کی تحیلی موقوف ہے۔اور یہی وہ چیز ہے جس کا دوسرے لفظوں میں اسلام نام ہے۔اسی اسلام کا زندہ کرنا اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے“۔(فتح اسلام صفحہ ۱) ۲۴