یادِ محمود ؓ — Page 79
12 79 طرح زندہ رہوں تو ہی بتا تیرے بغیر اے مسیحا مر رہا ہوں بے دوا تیرے بغیر رے دم سے تھی چمن میں ہر طرف اک تازگی گلشن دل کا شجر مرجھا گیا تیرے بغیر تیرے اخلاق کریمہ کے ہزاروں تھے اسیر کون پہنے گا یہاں زنجیر پا تیرے بغیر خُلق اور احسان میں اپنے پدر کا تھا نظیر ہر بشر مجروح دل اب ہوگیا تیرے بغیر آہ تیرے غم میں اب ہادی کا دل مجروح ہے کس طرح ہوگی بھلا اس کو شفا تیرے بغیر ( حکیم سید عبدالہادی بہاری)