یادِ محمود ؓ — Page 77
77 خبر ملی ہے کہ میرا آقا رفیق اعلیٰ سے جا ملا ہے ایسی وحشت اثر خبر ہے کہ دل مرا خون ہوگیا ہے وہ میرا آقا وہ میرا پیارا ہوں میرے ماں باپ جس پہ قرباں یتیم کر کے جو عاجزوں کو وہ آج ہم سے جدا ہوا ہے وہ ابنِ پاک مسیح دوراں مثیل مہدی وہ نورِ پیکر چھپا کے چہرہ جو عاشقوں سے پھر میں چپکے سے سو گیا ہے ہے چشم گریاں کلیجہ بریاں جگر ہے چھلنی شکستہ دل ہے چھپا ہے جب سے وہ چاند میرا اندھیرا آنکھوں میں چھا گیا ہے وہ جس نے دنیا کے گوشے گوشے میں سکہ اسلام کا بٹھایا علوم قرآں کی معرفت کا خزانہ جس نے لٹا دیا ہے وہ خدمت دین حق میں جس نے گزار دی اپنی عمر ساری جلا کے سینوں میں شمع ایماں وہ اپنے خالق سے جاملا ہے وہ کلمۃ اللہ رضائے مولیٰ کے عطر سے جو ہوا تھا ممسوح خدا کے سائے میں نفسی نقطہء آسماں پر چلا گیا ہے