یادِ محمود ؓ — Page 116
116 اے مثیل ابن مریم مهدی آخر زماں مصلح موعود اے پسر امام کامران اے مسیح پاک کے لخت جگر نور نبی اے گروہ اتقیا و اصفیا کے پاسباں حافظ دین متیں اے راز دار راہ حق واقف اسرار دیں اے رہنمائے سالکاں تو سدا زندہ رہے گا اپنے کاموں کے طفیل اک جہاں پر تیرے احسانوں کا ہے بارگراں عہد میں تیرے ہوئے ظاہر نشاں ہائے قدیر زیب دیتا ہے اگر تجھ کو کہوں قطب زماں وہ زمین شور تھی جو شورے سے یکسر سفید بن گئی ہے آج رشک گل باغ جناں وہ کیا کرامت ہے کہ تیرے پاؤں کے نیچے سے آج کر دیا جاری خدا نے چشمه آب رواں شوکت اسلام تیرے دم سے پھر قائم ہوئی ہو رہے ہیں اہل مغرب اب اسیر قادیاں یہ ترا اعجاز ہے دشت و جبل میں چار سو تیرے دیوانے ہتھیلی پر لئے پھرتے ہیں جاں ایک ہی مقصد ہے سب کا خدمت اسلام ہو پرچم اسلام لہراتا رہے باعز و شاں بٹتی ہے تشنہ لبوں میں یاں شراب زندگی مست ہو ہو جاتے ہیں ربوہ میں رندانِ جہاں عاشقوں پر کس قدر تیری جدائی شاق تھی تیرے غم میں ہورہا ہے تیرا سرور نیم جاں ( چوہدری محمدعلی سرور بی اے بی ٹی ربوہ )