واقعات صحیحہ — Page 68
۶۸ حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی سائیں مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کے متعلق ایک پیشگوئی کا پورا ہونا از حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی ایدہ اللہ۔ے بنگر اے قوم نشا نہائے خداوند قدیر چشم بکشا که بر چشم نشا نیست کبیر ۱۹ اکتوبر ۱۹۰۰ ء کے اخبار عام میں ایک امرتسری نے میری چٹھی پر جو ۶ ار ستمبر 1900ء کے الحکم میں شائع ہوئی تھی چند اعتراض کئے ہیں۔میں افسوس کرتا ہوں کہ میں نے توقع کے خلاف صاف اور واضح امور کو بھی اعتراض اور نکتہ چینی کا تختہ مشق دیکھا۔مجھے کامل وثوق تھا کہ اب یہ راہ خس و خاشاک اور ہر قسم کی رکاوٹوں سے پاک ہو گئی ہے اور راہ چلنے والوں کو غرض و غایت تک پہنچنے کے لئے کافی روشنی اور بدرقہ مل گیا ہے۔مگر اس معترض نے ثابت کر دیا ہے کہ بیدادگر خر وہ گیری کے لئے اس وقت تک جو لانگاہ باقی ہے۔کاش ایک اطمینان طلب جو یائے حق کی نکتہ چینی ہوتی ! جس کی کارروائی صاف راہنمائی کرتی کہ اس کے زعم میں ایک معرض بحث اور متنازع فیہ امر کی نسبت مزید توضیح کے لئے کوشش کی گئی ہے۔اور ایک پاک مگر نا واقف حقیقت دل آمادہ ہے کہ کسی طرح یہ الجھن سلجھنے میں آ جائے۔مگر ہمارے امرتسری دوست معترض کے کمزور اور غیر موزوں اعتراضوں سے صاف بو آ رہی ہے کہ بے جا تعصب کی موٹی دیوار میں اُن کے آگے حائل کھڑی ہیں جو انہیں محاذ کی خوبصورت روشنی کو دیکھنے نہیں دیتیں۔اصل واقعہ جو کئی دفعہ اس قابل قدر پر چہ میں شائع ہو چکا ہے نہایت صاف ہے اور وہ یوں ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے پیر مہر علی شاہ صاحب کو دعوت کی تھی کہ میں اور آپ عربی زبان میں نہایت درجہ کی فصیح بلیغ عبارت میں قرآن کریم کی تفسیر لکھیں اور اس تفسیر میں حقائق و معارف اور نکات و دقائق ہوں جو اگلی تفسیروں میں مذکور نہ ہوں