حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 20
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 20 20 خود نوشت حالات زندگی مسیح موعود علیہ السلام کے چہرہ مبارک کی زیارت کر کے اس کمرے سے باہر نکلے جہاں حضور کی لعش تدفین سے پہلے رکھی گئی تھی۔میں بھی لاہور سے جنازے کے ساتھ ہی آیا تھا اور بھائی مرحوم ( حضرت سید حبیب اللہ شاہ صاحب) قادیان کے اُن دوستوں میں سے تھے جو قادیان سے بٹالہ گئے اور حضور کی نعش مبارک اپنے کندھوں پر اٹھا کر لائے۔جونہی حضور کی آخری زیارت کر کے ہم کمرہ سے باہر نکلے اور سامنے لوکاٹ کے درخت کے نیچے کھڑے ہوئے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ نے فرمایا کہ:۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مخاطب کر کے یہ عہد کیا ہے کہ اگر ساری جماعت تجھے چھوڑ دے تو میں تیرے کام کی تکمیل کیلئے اپنی جان قربان کرنے ) سے دریغ نہ کرونگا“۔اس مفہوم کے الفاظ تھے آپ نے متعدد بار ( کہہ کر ) اپنے اس عہد کا ذکر کیا۔(آپ نے ) اس وقت مجھ سے فرمایا کہ میں بھی یہ عہد کروں۔میں نے عرض کیا میں نے ( یہ عہد کر لیا ہے اور بھائی مرحوم سے بھی یہی فرمایا۔غرض پہلے وقف کیلئے نیت اور دعا ئیں تھیں اور اب اس آخری الوداعی زیارت کے وقت پر اقرار وقف ! مجھے ہمیشہ ڈر رہتا کہ اس اقرار پر پورا آسکوں گا یا نہیں۔ایک رؤیا انہی دنوں (میں نے ) ایک خواب دیکھا کہ قادیان کی وہ گلی جو کبھی گھماروں والی گلی کہلاتی (تھی) اس میں بیت فضل والے چوراہے میں ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کرسی پر تشریف فرما ہیں اور دائیں بائیں دو کرسیاں ہیں۔دائیں کرسی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ میں یہاں بیٹھ جاؤں (اور شیخ عبدالرحمن مصری صاحب سے بائیں کرسی پر بیٹھنے کیلئے اشارہ تھا۔وہ بھدے طور سے جھٹ بیٹھ گئے ہیں جس سے مجھے کراہت محسوس ہوئی کہ حضور کی موجودگی میں اس پر بیٹھنا گستاخی ہے۔) کرسی کا بازو میں نے پکڑ لیا اور آنکھیں میری شرم سے