حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 111 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 111

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 111 کچھ یادیں، کچھ تاثرات ہو گئے کام کرتے رہے۔گویا ۱۹۰۸ء میں آپ نے خدمت دین کا جو عہد کیا تھا اسے آخر تک نہایت عمدگی کے ساتھ نبھانے کی آپ کو توفیق ملی۔ذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيُهِ مَنْ يَّشَاءُ حضرت شاہ صاحب صاحب رؤیا و کشوف اور مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔کئی مواقع پر اللہ تعالیٰ نے رویا و کشوف کے ذریعہ آپ کی رہنمائی کی اور اپنی بشارتوں سے آپ کو نوازا۔نماز تہجد با قاعدہ ادا کرتے تھے قرآن کریم سے غایت درجہ محبت تھی اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا گہرا مطالعہ تھا۔عربی اور اردو کے بلند پایہ ادیب تھے۔غرض بہت سی خوبیوں کے حامل تھے ایک لمبے عرصے تک تنظیمی تربیتی اور عملی میدان میں سلسلہ کی گراں بہا خدمات سرانجام دینے کی توفیق ملی۔حضرت شاہ صاحب نے پانچ لڑکیاں اور دولڑ کے یادگار چھوڑے ہیں۔اللہ تعالی ہم سب کو بھی حضرت شاہ صاحب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دین کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے کی توفیق بخشے۔آمین روزنامه الفضل ربوه ۱۸ مئی ۱۹۶۷ ، صفحه ۱ ) تاثرات حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب نوٹ: یہ مضمون حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب (اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو ) نے اگست ۱۹۶۲ء میں جب کہ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ( اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو ) بہت بیمار ہو گئے تھے تحریرفرمایا تھا مگر ابھی تک شائع نہیں ہوا تھا۔یہ راقم سید ولی اللہ شاہ صاحب کی ظاہری اور باطنی خوبیوں کا ۱۹۱۰ء میں گرویدہ ہوا جب کہ آنحترم گورنمنٹ کالج کی ایف ایس سی کلاس میں تعلیم پارہے تھے اور یہ عاجز میڈیکل سکول لاہور کا سیکنڈ ایئر کا طالب علم تھا۔یہ راقم انہیں اپنے بورڈنگ میں ایک مکرم معظم بزرگ کی حیثیت سے لے گیا تا کہ خود فیض حاصل کرے اور دوسرے طلباء کو احمدیت کی صداقت کی باتیں سنوائے۔چنانچہ آنمحترم نے کچھ باتیں صداقت احمدیت کے متعلق کیں اور تشریف