وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 8
معینی ابن آدم جداً سمان میں ہے۔اس عبارت میں ابن آدم سے مراد خود میچ ناصری علیہ السلام کا وجود ہے اور آپ اس وقت ہیں جبکہ آپ زمین پر تھے، اپنے تئیں آسمان پر قرار دیتے تھے اور آسمان پر چڑھنے اور اترنے سے مراد آپ کی یہ تھی کہ جب تک کوئی انسان روحانیت کے اعتبارت آسمانی نہ ہو وہ آسمان کی باتیں یعنی روحانی امور کو سمجھ ہی نہیں سکتا۔حضرت مسیح ناصرتی کا فیصلہ اور یہود و نصاری یہودی علماء نے خدا کے برگزیدہ صیح کا یہ فیصلہ قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اپنی ظاہر پرستی کے باعث آپ کو کا فرد محمد کہ کہ آپ کے قتل کے منصوبے باندھنے گئے مگر اس سے بھی المناک حادثہ یہ رونما ہوا کہ اس آسمانی فیصلہ کی دھجیاں خود شیح کے پرستاروں نے اُڑا دیں، انہوں نے حضرت ابن مریم کو خدا قرار دیدیا ، آپ کی طرف خُدائی صفات منسوب کر دیں اور اپنے زعم میں انہیں پچ پچ آسمان پر چڑھا دیا اور یہ عقیدہ ترا شا کہ آپ آخری زمانہ میں آسمان سے اتریں گئے اور آخری دور بھی اُنھیں کا ہوگا ، یہ عقیدہ بگڑی ہوئی عیسائیت کا مستقل حصہ بن گیا جس کی توثیق بعد میں نیسیا (NICAEA) کی مشہور چرچ کونسل نے کر دی (انسائیکلو پیڈیا آف ریلی کا زیر لفظ کریڈ (CREED) جلد 4 ص امین منریز (ALLAN MENZIES) اور جیسے مغربی مفکرین ان جدید خیالات کا موجد پولوس کو بتلاتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اختراع غیر ہیو د لوگوں کو عیسائیت کا شکار کرنے کے لیے نہایت ہی موزوں اور ٹیم ایڈی (WILLIAM EDIE) ہتھیار تھا۔انسائیکلو پیڈیا آف ریجن اینڈ ٹیکس جلد و ص )