وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 41 of 508

وفا کے قرینے — Page 41

حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ 41 بیچ سب تاروں کے چکا تو کہ جیسے ہو قمر موتیوں کا ہار تو نے ، وہ بکھرنے نہ دیا ہر عدو کے بر مقابل تو ہوا فتح تیرے ہاتھوں پہ خدا نے دیں کو مستحکم کیا وہ بنا رکھی خلافت کی ہو تجھ پہ آفریں تمکنت دیں کو ملی اور ٹل گیا ہر ابتلاء راه جذب و شوق میں تیرا سفر تھا بامراد منزل مقصود پائی مل گیا تجھ کو خدا مکرم قیس مینائی نجیب آبادی صاحب نہ طوفانوں کا خطرہ ہے نہ خوف زلزلہ اس کو خلافت ایک پختہ اور مستحکم عمارت ہے جماعت بھی منظم اور مرکز بھی ہے مستحکم امامِ وقت میں بھی انتظامی قابلیت ہے