وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 482 of 508

وفا کے قرینے — Page 482

حضرت خلیفة اسم الخامس ایدہ اللہتعالی بنصرہ العزیز 482 خلافت کا سایہ مکرم محمد رفیق اکبر صاحب جنہوں نے کیا ہے خلافت سے پیار تو ان پہ ہوئیں رحمتیں بے شمار خلافت سے سیکھے محبت کے ڈھنگ ہمیشہ جو اس کے رہے سنگ سنگ نہیں ہوتی ان کو کبھی کوئی خلافت کے دم سے سبھی رونقیں اطاعت سے گھر گھر میں ہیں برکتیں جماعت پہ چھائی ہے ہر دم بہار ے لئے جو دعائیں کریں وہ رو رو کے تر سجدہ گاہیں کریں جماعت کی خاطر رہیں بے قرار خلیفہ ہمارے رہیں چاہے دور ہراک دل میں بستے ہیں لیکن ضرور ہر اک آنکھ کرتی ہے ان کا دیدار وہ نیکی کی راہیں دکھاتے ہیں روز وہ قرآں کی باتیں بتاتے ہیں روز دیئے لاکھوں اللہ نے طاعت گزار جو اللہ کی راہوں میں دیتے ہیں مال ہمیشہ جو کھاتے ہیں رزق حلال تو خوش ہوتا ہے ان سے خدایا خلافت سلامت رہے پروردگار سایہ یونہی تاقیامت رہے دعا مانگتے ہیں یہ ہم خاکسار عمل ان کی باتوں پہ جس نے کیا جو سب کچھ کریں اپنا دیں پہ فدا تو اکبر انہی کے ہی بیڑے ہیں پار