وفا کے قرینے — Page 470
حضرت خلیفة المسح الامس ایدہ اللہ تعالی نصرہ العزیز 470 معطر جبین نظر چار سُو ہیں اعجاز قدسی کے جلوے عیاں خلافت کی شمع سے ماہتاب بھی ہوا سرنگوں ، جھک گئی کہکشاں مٹاؤ خلافت کے انوار سے جنم لے چکی ہیں جو گمراہیاں خلافت کے دامن کو اب تھام لیں بہت کرچکے ہیں جو من مانیاں خلافت کے سائے میں ہم گامزن دور اب منزل ضوفشاں نہیں ނ ہوا مبارک کہ اس جوبلي خلافت کی برکت کا فیض رواں اسی نور سے جگ پہ روشن ہوا وسیع تر مکان مسیح الزماں اطاعت کے جذبہ سے محمود ہے نہ ہادی کا لینا کوئی امتحان