وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 468 of 508

وفا کے قرینے — Page 468

حضرت خلیفة اصبح الخامس ایده ال تعالى بنعبد العزيز 468 در مسرور تک۔مکرم احمد مبارک صاحب مجھے رستہ دکھانے کو ستارہ دُور تک پہنچا کہیں بھٹکا نہیں سیدھا درِ مسرور تک پہنچا تھکے ہارے بدن میں روح تک آسودگی اتری میں جب اُس باغ کے سیب و انار ، انگور تک پہنچا رخ انور کو تکنے طالب و مطلوب سب پہنچے ہجوم عاشقاں پہنچا بُت مغرور تک پہنچا ندا ایسی پلٹ کر انفس و آفاق سے آئی اندھیرے سے نکل کر آبشار نور تک پہنچا زمیں سے آسماں تک حسن کا شعلہ لپکتا تھا جب اُس کے عشق میں جلتا ہوا میں طور تک پہنچا مئے عرفان تازہ چل رہی تھی اُس کی مجلس میں پیالہ در پیالہ مجھ دل مخمور تک پہنچا زمانہ چل رہا ہے کس قدر بے سمت و بے منزل مرے مالک تو اس کو وقت کے مامور تک پہنچا