وفا کے قرینے — Page 418
حضرت خلیفة المسح الامس ایدہ اللہ تعالی نصرہ العزیز 418 پھر خلافت کو ہم نے پایا ہے۔مکرمه شگفته عزیز شاہ صاحبه اسلام آباد آج دل کو قرار آیا ہے بہار آیا ہے مروة کس کے سجدوں سے تر ہوئی ہے زمیں کس نے اشکوں کو یوں بہایا ہے وہ جو بجز و بکا ނ نور ہی نور ہے قبائے جھکا اس نے نے عرش بریں ہلایا ہے محسون فضاؤں میں خلافت ہو ان کی آغوش کا ہے خلافت نور میں نہایا ہے مهدی ملبوس جس میں آیا ہے پرورده گه ملبوس ل عطائے یہی قرآن عمر کا جایا ہے ربانی نے بتایا ہے ساتھ اس کے ہیں رب کی تائیدیں جس نے مسرور فضل خدا کا سایہ ہے جاں ایسا سرور آیا ہے