وفا کے قرینے — Page 308
حضرت خلیفة المسیح الثالث رحم اللہ تعالی 308 نا فله موعود ڈاکٹر مہدی علی چوہدری صاحب فاتح دیں ، نافله موعود تو نور کی تجسیم تھا لختِ دل محمود پیشانی اللہ کا مہدی کو بشارت تھی نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اس کی ہی سجتی تھی تیری ذات میں مشہود وہ زہد و عبادت کا اجالا تھا تیری منزل مقصود تو امن کا شہزادہ تو محبت کا پیامبر انوار و کمالات خلافت کی رواں رُود احمد کے گلستاں کو جلانے کو جو اٹھے ٹکرا کے ہوئے تجھ سے فنا وقت کے نمرود بت خانہ دنیا آذان وہ حق کی لرزاں ہوئے جس سے سبھی طاغوت کے معبود لہرایا زمانے میں یوں توحید کا پرچم تثلیث کی آواز جہاں سے ہوئی نابود اللہ کا تھا احسان کہ تو رہبر تھا ہمارا اسلام کی تاریخ کا وہ دور تھا مسعود