وفا کے قرینے — Page 259
حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحم اللہ تعالی 259 ترے نقشِ قدم ڈھونڈتے ہیں تمہی کوئی عالم ہو یا اہلِ زباں ہو ہو دین حق کے وہ سپاہی جو ٹکرایا وہی مسیح وقت تمہی ན་ شکوه دُعا ہی جس کی شمشیر و سناں ہو پھوڑ بیٹھا نبی پاک کے دیں کی چٹاں ہو زمیں ادھر آجاؤ لوگو تم کہاں ہو قافله سالار دمین ملت ہو منزل میں منزل کا نشاں ہو احمد کے علم دار صبح توحید کی گویا اذاں تجھے اللہ نے نصرت عطا کی ہو علوم کوئی مشکل ہو کوئی امتحاں ہو ظاہری میں دسترس ہے علوم باطنی میں بے کراں خدا رکھے تجھے ہر دم سلامت ہو خدا ہر لحظه تیرا پاسباں ہو