وفا کے قرینے — Page 146
حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ 146 خلافت مکرم عبدالسلام صاحب اختر ایم اے یہ نکتہ کیا نہیں ہے آدمی کے غور کے قابل! کہ پت شاخ سے گرتا ہے جب ، مرجھا ہی جاتا ہے رواں ہے بلبلے کی ناؤ بھی دریا کی موجوں پر ذرا اُبھرے تو ہیئت میں تغیر آہی جاتا ہے سبق دیتی ہے تاریخ خلافت نوع انساں کو کہ اہل حق کے قدموں میں زمانہ آہی جاتا ہے ہزاروں ہوں گھنے تاریک بادل مٹ ہی جاتے ہیں کہ جب سورج نکلتا ہے تو آخر چھا ہی جاتا ہے اخوت ایک نعمت ہے ، وگرنہ سلسلہ غم کا اگر ہو مستقل تو آدمی گھبرا ہی جاتا ہے عجب شے ہے جہاں میں جذبہ شوق محبت بھی جو اُس کو ڈھونڈ نے آتا ہے آخر پا ہی جاتا ہے جو کی ہو چھو تو شمع خلافت سے ہے نورانی یہی ہے رمز قرآنی ، یہی راز جہانبانی