وفا کے قرینے — Page 111
حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ 111 عاشق زار پر نور الدین کا احسان ہے چشم بیمار پر احسان ہے نور الدین کا مورد برق تجلی تھی نگاہیں اُس کی عرش سے پار نکل جاتی تھی آہیں اُس کی صدق سے دھونی در حق یہ رمائی کس نے درس قرآن کی محفل سجائی کس نے وہ ایٹر راہوار خلافت کو لگائی کس نے لشکر کفر پہ تلوار چلائی کس نے تمکنت دین کو حاصل ہوئی کافی وافی کر کے دکھلا دیا سیچ وعده استخلافی روز و شب ہم کو سکھایا کہ شریعت ہے وہی بعد ازاں سنت و الهام و احادیث نبی نئی تعلیم کی قرآں نے نہ حاجت چھوڑی آیا ہے ہے خدمت ملت کیلئے احمد بھی پھر ہوا واصل حق ہم کو نصیحت کر کے اتحاد اور محبت کی وصیت کر کے