وفا کے قرینے — Page 96
حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ 96 نوید جو بلی محترمه شاکره خاتون صاحبه خوشی کا غلغلہ گونجا کہ سلور جوبلی آئی صبا جاکر یہ مژدہ سارے عالم میں پکار آئی لگایا احمدیت کا چمن دُنیا میں احمد نے کہ جسمیں اک جہاں نے پانچ بات کی ہوا پائی سینیا اسے فضل عمر نے چشمہ عرفان سے برس چھپیں جب گزرے تو اک رنگیں بہار آئی نوید جوبلی سنکر ہوئے مدہوش سب عاشق مگر جذبہ مسرت کا اُٹھا اک لے کے انگڑائی چراغان ماہ و انجم سے ہے بڑھ کر ضوفگن ، دیکھو! بھلا پھر کیوں نہ ہو چکر میں عقل چرخ مینائی زمیں سے آسماں تک دھوم ہے اس جشنِ اطہر کی امام وقت کے ہیں خاکی و نوری بھی شیدائی کیا ہشیار مہدی نے ہمیں جب ساری دنیا میں شراب کفر میں مدہوش تھی پیری و برنائی سہارا دامن فضل عمر کا مجھ کو ہے کافی! کہ جس کے چہرہ انور پہ ہے شانِ مسیحائی کوئی اے شاکرہ پیغام پیغامی کو پہنچا د امیر المؤمنین کی جیت اور دشمن کی پسپائی