وفا کے قرینے — Page 89
حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ مان 89 99 کر مہدی کو پھر اس کی وحی کا انکار منکر و نفس کی ظلمت ہے جہالت ہے یہ کیا نہیں حضرت احمد کی وحی سے ظاہر جس کو تائید خدا ہے وہ خلافت ہے یہ بگڑ کر نہ بنے اور یہ بنتی ہی رہی جس کا معمار خدا ہے وہ عمارت ہے یہ آؤ لوگو کہ یہیں نور خدا پاؤ گئے حضرت احمد مرسل کی وصیت ہے یہ ہے اولوالعزم سے دوری تو فنا کا رستہ جس سے ، بچنا نہیں ممکن وہ ہلاکت ہے یہ افترا چھوڑ دو محمود سائية فضل عمر ، سایہ رحمت جانو دین و دنیا جو سنوارے وہ معیت ہے یہ اے نادانو ! جس پہ نازاں ہے نبوت وہی عترت ہے یہ اس کا حامی ہے خدا اُس کے فرشتے ناصر تم جسے چھین نہیں سکتے وہ نصرت ہے یہ اس خلافت سے جو ٹکرائے وہ مٹ جائے گا مالک کون و مکاں ہی کی مشیت ہے یہ