اسوہء انسانِ کامل — Page 647
نبیوں میں سب سے بزرگ اور کامیاب نبی 647 اسوہ انسان کامل his Prophet۔' Whoever desires to know whether the event of things answered to the boldness of such an announcement, will do well to examine a map of the world in our own times۔He will find the marks of something more than an imposture۔To be the religious head of many empires, to guide the daily life of one-third of the human race, may perhaps justify the title of a messenger of God۔It is altogether a misconception that the Arabian progress was due to the sword alone۔The sword may change an acknowledged national creed, but it cannot affect the consciences of men۔Profound though its argument is, something far more profound was demanded before Mohammedanism pervaded the domestic life of Asia and Africa, before Arabic became the language of so many different nations۔"(21) ترجمہ: جسٹینین کی وفات کے 4 سال کے بعد 569ء میں عرب کے شہر مکہ میں ایک آدمی پیدا ہوا جس کا نام محمد تھا۔جو دنیا میں لوگوں پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوا۔اسے یور بین لوگوں نے نعوذ باللہ ( مفتری ) بادشاہت کا طلبگار قرار دیا۔اس نے قوم کو قدیم روحوں کی پرستش ، ایک شہابیہ کی عقیدت اور ذلیل ترین عمل یعنی بتوں کی پوجا کی حالت سے نکال کر کے انہیں رفعت بخشی۔اس نے وحدانیت کے عقیدہ کی تبلیغ کی جو جلد ہی فضاؤں میں پھیل گیا اور آریوں اور کیتھولک (عیسائیوں ) کے کھو کھلے اختلافات رکھنے والی قوم کو ہواؤں میں اڑا دیا۔۔۔محمد ایسی خوبیوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے تھے جنہوں نے بار ہا بڑی بڑی طاقتوں کے مستقبل کے بارے میں فیصلے کیے۔آپ ایک مبلغ اور سالار تھے۔آپ منبر پر فصیح البیان اور میدان جنگ میں بطل جلیل ہوتے۔آپ کا علم دین الہی انتہائی عام فہم تھا۔کہ اللہ ایک ہے۔زنانہ خواص کے مالک شامی جو تو حید اور تثلیث کے جھنجھٹ میں الجھے ہوئے تھے ، یونانی مذہب کے پیروکاروں اور آریوں نے کہ جنہوں نے آپ کے نفس سے گویا مٹتے چلے جانا تھا شاید پہلے ہی اس بات کا اندازہ کر سکتے تھے کہ محمد کیا کہنا چاہتے ہیں۔اس دا گی سچائی کو پیش کرتے ہوئے آپ بے فائدہ عقلی مباحثات میں نہ الجھے لیکن اپنے لوگوں کو چند ایسی باتوں پر عمل کروا کر جیسے ذاتی صفائی ، متانت ، روزہ اور نماز ان کی معاشرتی اصلاح میں اپنے آپ کو ضرور لگایا۔دوسرے تمام کاموں سے بڑھ کر صدقہ و خیرات کو بہت وقعت دی۔آپ نے اپنی میانہ روی سے کہ جس سے دنیا عرصہ پہلے ہی بے خبر تھی آپ نے ہر قسم کے عقیدے کے حامل آدمی کی نجات کو تسلیم کیا بشرطیکہ وہ نیک ہوں۔توحید خداوندی کے اعلان کے ساتھ ساتھ آپ نے اس بات کا اضافہ فرمایا کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔جو بھی جاننے کی خواہش رکھتا ہے کہ